السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما ورد في البئر جبار والمعدن جبار باب: ان روایات کا بیان جن میں وارد ہے کہ کنویں میں گرنے سے ہونے والا نقصان رائیگاں ہے، اور کان کے کھودنے کے دوران پیش آنے والا جانی نقصان رائیگاں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ " زَادَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ: " وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، إِذَا حَفَرَهَا فِي مِلْكِهِ وَفِي صَحْرَاءَ أَوْ طَرِيقٍ وَاسِعَةٍ مُحْتَمَلَةٍ، فَأَمَّا إِذَا حَفَرَهَا فِي غَيْرِ هَذِهِ الْمَوَاضِعِ فَإِنَّهُ يَضْمَنُ مَا يَتْلَفُ فِيهَا رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ بَنَى فِي غَيْرِ حَقِّهِ، أَوِ احْتَفَرَ فِي غَيْرِ مِلْكِهِ فَهُوَ ضَامِنٌ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چوپائے کا زخم رائیگاں ہے اور کنواں بھی رائیگاں ہے۔“ حفص بن عمر نے یہ اضافہ کیا کہ ”کان بھی رائیگاں ہے اور «الرِّکَازُ» (رکاز) میں «الْخُمُسُ» (خمس) ہے۔“ اس کو شیخین نے صحیح میں حضرت شعبہ سے روایت کیا ہے اور ان کی مراد (خدا بہتر جانتا ہے) یہ تھی کہ جو کنواں اپنی ملکیت میں کھودے یا صحرا میں یا واضح کھلے راستے میں (وہ رائیگاں ہے)۔ بہرحال، جب ان جگہوں کے علاوہ کھودے تو وہ نقصان کا ضامن ہوگا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے اپنے حق کے علاوہ میں عمارت بنائی یا اپنے غیر کی زمین میں کنواں کھودا تو وہ ضامن ہوگا۔