السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما ورد في البئر جبار والمعدن جبار باب: ان روایات کا بیان جن میں وارد ہے کہ کنویں میں گرنے سے ہونے والا نقصان رائیگاں ہے، اور کان کے کھودنے کے دوران پیش آنے والا جانی نقصان رائیگاں ہے۔
حدیث نمبر: 16401
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَضَى فِي الْقَارِصَةِ وَالْقَامِصَةِ وَالْوَاقِصَةِ بِالدِّيَةِ أَثْلَاثًا قَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ: وَتَفْسِيرُهُ أَنَّ ثَلَاثَ جَوَارٍ كُنَّ يَلْعَبْنَ فَرَكِبَتْ إِحْدَاهُنَّ صَاحِبَتَهَا، فَقَرَصَتِ الثَّالِثَةُ الْمَرْكُوبَةَ فَقَمَصَتْ، فَسَقَطَتِ الرَّاكِبَةُ فَوُقِصَتْ عُنُقُهَا، فَجَعَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَلَى الْقَارِصَةِ ثُلُثَ الدِّيَةِ، وَعَلَى الْقَامِصَةِ الثُّلُثَ، وَأَسْقَطَ الثُّلُثَ، يَقُولُ: لِأَنَّهُ حِصَّةُ الرَّاكِبَةِ؛ لِأَنَّهَا أَعَانَتْ عَلَى نَفْسِهَا.حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چٹکی بھرنے والی، بدکنے والی اور گردن ٹوٹ کر مرنے والی کے متعلق دو تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ ابن ابی زائدہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ تین لڑکیاں آپس میں کھیل رہی تھیں، ان میں سے ایک دوسری پر سوار ہوگئی تو تیسری نے اسے، جس کے اوپر وہ سوار تھی، چٹکی بھری، وہ بدکی تو اوپر والی گر پڑی اور اس کی گردن ٹوٹ گئی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں دو تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا اور چونکہ مرنے والی نے خود ان کی اعانت کی تھی، اس لیے اس کا ایک تہائی (ثلث) حصہ چھوڑ دیا۔