حدیث نمبر: 16402
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: إِنَّ أَعْمَى كَانَ يُنْشِدُ فِي الْمَوْسِمِ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ يَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ

علی بن رباح لخمی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا، ایک نابینا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ اشعار پڑھ رہا تھا: ”اے لوگو! مجھے ایک عجیب بات پتا چلی ہے کہ کیا اندھا صحیح آدمی کی دیت ادا کرے گا؟ وہ ساتھ ہی گرا اور اسے توڑ دیا۔“ یہ ایک اندھا اور صحیح ایک کنویں پر آئے اور وہ اندر گرے، اندھا صحیح کے اوپر گرا تو بینا آدمی مر گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نابینا پر بینا کی دیت کا فیصلہ فرمایا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16402
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ لعلي»