أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ التَّمَّارُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثٌ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوَفَّى بِهَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پورا کرنے کے قابل وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَهُوَ أَبُو الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ إِنَّمَا يُوَفَّى مِنَ الشُّرُوطِ بِمَا سُنَّ أَنَّهُ جَائِزٌ وَلَمْ تَدُلَّ سُنَّةٌ عَلَى أَنَّهُ غَيْرُ جَائِزٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پورا کرنے کے قابل وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مسنون شرطیں پوری کرنی جائز ہیں، جبکہ غیر مسنون شروط کو پورا کرنا درست نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مسنون شرطیں پوری کرنی جائز ہیں، جبکہ غیر مسنون شروط کو پورا کرنا درست نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلِيَّ فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى سَبْعَةِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَنَفِسَتْ فِيهَا: " ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أُعْطِيَهُمْ ذَلِكَ جَمِيعًا وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ "، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لَنَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ مِنْهَا ⦗٤٠٦⦘ ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " فَفَعَلَتْ وَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ تَعَالَى، وَلَا سُنَّةِ نَبِيِّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَى عَنْهُ: " الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا "، وَمُفَسَّرُ حَدِيثِهِ يَدُلُّ عَلَى جُمْلَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: ”اے عائشہ! میں نے اپنے گھر والوں سے ساٹھ اوقیوں پر مکاتبت کی ہے اور ایک اوقیہ سال میں ادا کرنا ہے، آپ میری مدد کریں۔“ اور کتابت کی رقم باقی نہ رہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، اور وہ اس میں رغبت بھی رکھتی تھیں: ”اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں تو میں ساری رقم اکٹھی ادا کر دیتی ہوں اور ولاء میری ہو گی۔“ تو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر یہ بات اپنے گھر والوں پر پیش کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہنے لگے: اگر وہ تیرے اوپر احسان کرنا چاہتی ہیں تو کریں لیکن ولاء ہماری ہو گی۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے فرمایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کوئی چیز نہ روکے، خرید کر آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ تو انہوں نے ایسا کر دیا اور رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں؟ اور جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ وہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں، اللہ کی قضا کو پورا کرنا زیادہ درست ہے اور اللہ کی شرط زیادہ قوی ہے اور ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں مگر وہ شرط جو حرام کو حلال یا حلال کو حرام کر دے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں مگر وہ شرط جو حرام کو حلال یا حلال کو حرام کر دے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خُرَيْمٍ الْقَزَّازُ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ شَرْطًا أَحَلَّ حَرَامًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ عَنْ كَثِيرٍ وَرُوِيَ مَعْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
کثیر بن عبداللہ مزنی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں، مگر جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال کر دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ كَاسِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ فِيمَا وَافَقَ الْحَقَّ " لَفْظُ سُفْيَانَ بْنِ حَمْزَةَ وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ ثَالِثٍ ضَعِيفٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں جو حق کے موافق ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زُرَارَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ ⦗٤٠٧⦘ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں جو حق کے موافق ہوں۔“
(ب) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں جو ان میں سے حق کے موافق ہو۔“
(ب) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں جو ان میں سے حق کے موافق ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِامْرَأَةٍ أَنْ تَشْتَرِطَ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفَأَ إِنَاءَهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی بہن کی طلاق کا سوال کرے تاکہ اس کے برتن کو انڈیل دے، یعنی اس کا رزق حاصل کرلے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّابِقِ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَشَرَطَ لَهَا أَنْ لَا يُخْرِجَهَا فَوَضَعَ عَنْهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الشَّرْطَ، وَقَالَ: " الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا " وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن عبید بن سباق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں شادی کی اور یہ شرط رکھی کہ وہ اس کو ساتھ نہ نکالے گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ شرط ختم کر دی اور فرمایا: عورت خاوند کے ساتھ ہی ہوتی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّفَّارِ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْهُ فَقَالَ: " لَهَا دَارُهَا " قَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِذًا يُطَلِّقْنَنَا قَالَ: " إِنَّ مَقَاطِعَ الْحُقُوقِ عِنْدَ الشُّرُوطِ " الرِّوَايَةُ الْأُولَى أَشْبَهُ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَقَوْلِ غَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن غنم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر تھا، اس بارے میں سوال کیا گیا تو فرمانے لگے: اس کے لیے اس کا گھر ہے، تو ایک شخص نے کہا: اے امیر المومنین! تب وہ ہمیں طلاق دے دیں گے کہ حقوق کو قطع کرنا شروط کے ذریعے ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالُوا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " شَرْطُ اللهِ قَبْلَ شَرْطِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی شرطیں اس عورت کی شرط سے پہلے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالُوا: ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: " هُوَ مَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا " قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ وَغَيْرُهُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ ذَاكَ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ ".
حافظ ثناء اللہ
زہری وغیرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، اگرچہ سو شرطیں بھی ہوں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَشْتَرِطُ عَلَى زَوْجِهَا أَنَّهُ لَا يَخْرُجُ بِهَا مِنْ بَلَدِهَا قَالَ: فَقَالَ سَعِيدٌ: " يَخْرُجُ بِهَا إِنْ شَاءَ " وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَشَرَطَ لَهَا دَارَهَا، فَقَالَ: " زَوْجُهَا دَارُهَا "، وَرُوِّينَا عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " أَرَى أَنْ يُوفِيَ لَهَا بِشَرْطِهَا "، وَقَوْلُ الْجَمَاعَةِ أَوْلَى.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ جو عورت اپنے خاوند کے لیے شرط لگا دیتی ہے کہ وہ اسے اس شہر سے باہر لے کر نہ جائے گا تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہے تو لے جا سکتا ہے۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ اس مرد کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی پر گھر رہنے کی شرط لگا دی تو وہ فرماتے ہیں کہ اس کا خاوند ہی اس کا گھر ہے۔
(ج) سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کی شرط کو پورا کیا جائے گا۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ اس مرد کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی پر گھر رہنے کی شرط لگا دی تو وہ فرماتے ہیں کہ اس کا خاوند ہی اس کا گھر ہے۔
(ج) سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کی شرط کو پورا کیا جائے گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً وَشَرَطْتُ لَهَا الْفُرْقَةَ وَالْجِمَاعَ بِيَدِهَا فَقَالَ: " خَالَفْتَ السُّنَّةَ وَوَلَّيْتَ الْأَمْرَ غَيْرَ أَهْلِهِ فَالصَّدَاقُ وَالْفِرَاقُ وَالْجِمَاعُ بِيَدِكَ "، قَالَ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً وَشَرَطْتُ لَهَا إِنْ لَمْ أَجِيءْ بِكَذَا وَكَذَا إِلَى كَذَا وَكَذَا فَلَيْسَ لِي نِكَاحٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " النِّكَاحُ جَائِزٌ وَالشَّرْطُ لَيْسَ بِشَيْءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ایک عورت سے اس شرط پر شادی کی ہے کہ جدائی اور جماع اس کی مرضی سے ہوگا، فرماتے ہیں: تم نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور معاملہ تم نے اس کے سپرد کر دیا جو اس کا اہل نہیں ہے، حق مہر، جدائی اور جماع یہ معاملات تمہارے ہاتھ میں ہیں۔ ایک دوسرا شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے عورت سے نکاح اس شرط پر کرنے کا ارادہ کیا ہے کہ اگر وہ فلاں چیز اتنی اتنی نہ لائی تو کوئی نکاح نہیں ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نکاح جائز ہے لیکن شرط درست نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ⦗٤٠٩⦘ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، أَنَّ رَجُلًا نَكَحَ امْرَأَةً فَأَصْدَقَتْهُ الْمَرْأَةُ وَشَرَطَتْ عَلَيْهِ أَنَّ بِيَدِهَا أَمْرَ الْجِمَاعِ وَالْفُرْقَةِ، فَقِيلَ لَهُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ، وَوَلَّيْتَ الْحَقَّ غَيْرَ أَهْلِهِ فَقَضَى ابْنُ عَبَّاسٍ " أَنَّ عَلَيْهِ الصَّدَاقَ وَبِيَدِهِ الْجِمَاعُ وَالْفُرْقَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عورت سے نکاح کیا، حق مہر عورت نے ادا کیا اور شرط رکھی کہ جماع اور جدائی اس کے سپرد ہے، اس مرد سے کہا گیا: تو نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور تو نے حق نااہل کو دے دیا ہے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فیصلہ دیا کہ حق مہر مرد کے ذمہ اور جماع اور فرقت مرد کی مرضی سے ہوگی۔
(ب) عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی تو عورت نے مرد کے لیے شرط رکھی کہ جماع اور فرقت کا کام اس عورت کی مرضی پر منحصر ہے اور حق مہر عورت ادا کرے گی تو انہوں نے فرمایا: اس نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور معاملہ غیر اہل کے سپرد کر دیا ہے۔ حق مہر مرد کے ذمہ لازم ہے اور جماع و فرقت کا معاملہ بھی مرد کے سپرد ہے۔
(ب) عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی تو عورت نے مرد کے لیے شرط رکھی کہ جماع اور فرقت کا کام اس عورت کی مرضی پر منحصر ہے اور حق مہر عورت ادا کرے گی تو انہوں نے فرمایا: اس نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور معاملہ غیر اہل کے سپرد کر دیا ہے۔ حق مہر مرد کے ذمہ لازم ہے اور جماع و فرقت کا معاملہ بھی مرد کے سپرد ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْقَاسِمِ، مَوْلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " النِّسَاءُ مَعَ أَزْوَاجِهِنَّ حَيْثُ مَا كَانُوا، إِلَّا نِسَاءَ الْأَنْصَارِ لَا يَخْرُجْنَ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ " يَعْنِي مِنَ الْمَدِينَةِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ هَذَا ضَعِيفٌ جِدًّا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عورتیں مردوں کے ساتھ ہی رہیں گی جہاں بھی ان کے مرد ہوں سوائے انصاری عورتوں کے کہ وہ مدینہ سے نہ نکالی جائیں گی۔“