السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: الشروط في النكاح باب: نکاح میں شرائط عائد کرنے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ⦗٤٠٩⦘ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، أَنَّ رَجُلًا نَكَحَ امْرَأَةً فَأَصْدَقَتْهُ الْمَرْأَةُ وَشَرَطَتْ عَلَيْهِ أَنَّ بِيَدِهَا أَمْرَ الْجِمَاعِ وَالْفُرْقَةِ، فَقِيلَ لَهُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ، وَوَلَّيْتَ الْحَقَّ غَيْرَ أَهْلِهِ فَقَضَى ابْنُ عَبَّاسٍ " أَنَّ عَلَيْهِ الصَّدَاقَ وَبِيَدِهِ الْجِمَاعُ وَالْفُرْقَةُ ".عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عورت سے نکاح کیا، حق مہر عورت نے ادا کیا اور شرط رکھی کہ جماع اور جدائی اس کے سپرد ہے، اس مرد سے کہا گیا: تو نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور تو نے حق نااہل کو دے دیا ہے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فیصلہ دیا کہ حق مہر مرد کے ذمہ اور جماع اور فرقت مرد کی مرضی سے ہوگی۔
(ب) عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی تو عورت نے مرد کے لیے شرط رکھی کہ جماع اور فرقت کا کام اس عورت کی مرضی پر منحصر ہے اور حق مہر عورت ادا کرے گی تو انہوں نے فرمایا: اس نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور معاملہ غیر اہل کے سپرد کر دیا ہے۔ حق مہر مرد کے ذمہ لازم ہے اور جماع و فرقت کا معاملہ بھی مرد کے سپرد ہے۔