حدیث نمبر: 14428
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا فَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس عورت کا نکاح حق مہر یا چادر یا کسی چیز پر بھی کیا گیا تو اس عورت کے لیے وہ ہے اور جو نکاح کے بعد دیا گیا، جس کو دیا گیا وہ اسی کا ہے اور زیادہ حق دار وہ مرد ہے جس کی عزت کی گئی اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے۔“
حدیث نمبر: 14429
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، أنبأ عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗٤٠٥⦘ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَّةٍ فَهُوَ لَهَا وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ، وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ الرَّجُلُ بِهِ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ " لَفْظُ حَدِيثِ الصَّغَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز کے ذریعے عورت کی شرمگاہ کو حلال کیا گیا وہ عورت کے لیے ہے اور نکاح کے بعد جو عورت کے باپ یا بھائی یا ولی کی عزت کے لیے دیا گیا وہ اس کے لیے ہے اور وہ مرد زیادہ حق دار ہے جس کی عزت اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے کی گئی۔“