کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مہر معاف کرنے کے حوالے سے اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ”جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے“ اس سے مراد شوہر ہے۔
حدیث نمبر: 14445
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: سَأَلَنِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ الْوَلِيُّ قَالَ: " لَا بَلْ هُوَ الزَّوْجُ ".
حافظ ثناء اللہ
قاضی شریح کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: ﴿الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237] سے کون مراد ہے؟ میں نے کہا: وہ ولی ہے۔ فرمانے لگے: نہیں، بلکہ وہ خاوند ہے۔
حدیث نمبر: 14446
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ هُوَ الزَّوْجُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ﴿الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237] سے مراد خاوند ہے۔
حدیث نمبر: 14447
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ غَيْلَانَ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ⦗٤١٠⦘ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " هُوَ الزَّوْجُ " كَذَا فِي هَاتَيْنِ الرِّوَايَتَيْنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد خاوند ہے۔
حدیث نمبر: 14448
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ " تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي نَصْرٍ فَسَمَّى لَهَا صَدَاقًا ثُمَّ طَلَّقَهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ} [البقرة: ٢٣٧] قَالَ: أَنَا أَحَقُّ بِالْعَفْوِ مِنْهَا فَسَلَّمَ إِلَيْهَا صَدَاقَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بنو نصر کی ایک عورت سے شادی کی، حق مہر مقرر کر دیا لیکن دخول سے پہلے ہی طلاق دے دی تو اس آیت کی تلاوت کی: ﴿إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237] ”مگر یہ کہ وہ عورتیں معاف کر دیں یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔“ فرماتے ہیں کہ عورت سے بڑھ کر میں معاف کرنے کا حق رکھتا ہوں، تو اس کا حق مہر اس کے سپرد کر دیا۔
حدیث نمبر: 14449
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ: " إِلَّا أَنْ تَعْفُوَ الْمَرْأَةُ فَتَدَعَ نِصْفَ صَدَاقِهَا أَوْ يَعْفُوَ الزَّوْجُ فَيُكْمِلَ لَهَا صَدَاقَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عورت معاف کرے، یعنی اپنا آدھا حق مہر معاف کر دے یا خاوند معاف کرے، یعنی مکمل حق مہر ادا کر دے۔
حدیث نمبر: 14450
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَعُبَيْدٌ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: " الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ هُوَ الزَّوْجُ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ﴿بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237] ہے وہ خاوند ہے۔
حدیث نمبر: 14451
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَةً فَطَلَّقَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَعَفَا أَخُوهَا عَنْ صَدَاقِهَا فَارْتَفَعُوا إِلَى شُرَيْحٍ فَأَجَازَ عَفْوَهُ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: " أَنَا أَعْفُو عَنْ صَدَاقِ بَنِيَّ مَرَّةً " فَكَانَ يَقُولُ بَعْدَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الزَّوْجُ أَنْ يَعْفُوَ عَنِ الصَّدَاقِ كُلِّهِ فَيُسَلِّمَهُ إِلَيْهَا أَوْ تَعْفُوَ هِيَ عَنِ النِّصْفِ الَّذِي فَرَضَ اللهُ لَهَا وَإِنْ تَشَاحَّا فَلَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ.
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ رحمہ اللہ، شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمارے ایک شخص نے کسی عورت سے شادی کی اور دخول سے پہلے ہی طلاق دے دی تو اس عورت کے بھائی نے حق مہر معاف کر دیا، معاملہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس گیا تو انہوں نے حق مہر معاف کرنے کو درست قرار دیا، پھر کہنے لگے: ”ایک مرتبہ میں نے اپنی بیٹی کا حق مہر معاف کر دیا“، اس کے بعد فرمانے لگے: ”جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ﴿بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237] وہ خاوند ہے کہ وہ مکمل حق مہر بیوی کے سپرد کر دے یا عورت اپنا نصف حق مہر معاف کر دے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے فرض کیا ہے، اگر وہ جھگڑا کریں تو عورت کو نصف حق مہر ملے گا۔“
حدیث نمبر: 14452
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " وَاللهِ مَا قَضَى شُرَيْحٌ قَضَاءً قَطُّ كَانَ أَحْمَقَ مِنْهُ حِينَ تَرَكَ قَوْلَهُ الْأَوَّلَ وَأَخَذَ بِهَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
اسی سند سے شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! قاضی شریح رحمہ اللہ نے کبھی ایسا فیصلہ نہیں کیا، فرماتے ہیں کہ وہ بے وقوف ہے جو پہلے قول کو چھوڑ کر اس پر عمل کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 14453
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ وَأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُمْ قَالُوا: " الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ هُوَ الْوَلِيُّ " فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ " هُوَ الزَّوْجُ " فَرَجَعُوا عَنْ قَوْلِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ: " أَرَأَيْتُمْ إِنْ عَفَا الْوَلِيُّ وَأَبَتِ الْمَرْأَةُ مَا يُغْنِي عَفْوُ الْوَلِيِّ، أَوْ عَفَتْ هِيَ وَأَبَى الْوَلِيُّ مَا لِلْوَلِيِّ مِنْ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبشر، طاؤس رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ اور اہل مدینہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ﴿جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے﴾ [سورة البقرة: 237] وہ ولی ہے۔ کہتے ہیں: میں نے ان کو سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے قول کی خبر دی کہ وہ خاوند ہے تو انھوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا۔ جب سعید بن جبیر رحمہ اللہ آئے تو انھوں نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ولی حق مہر معاف کر دے اور عورت انکار کر دے تو ولی کا معاف کرنا کچھ کفایت کرے گا یا عورت معاف کرے اور ولی انکار کر دے تو ولی کا کوئی تعلق ہے؟
حدیث نمبر: 14454
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ غَيْلَانَ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ⦗٤١١⦘ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: هُوَ الزَّوْجُ إِنْ شَاءَ أَتَمَّ لَهَا صَدَاقَهَا. وَكَذَلِكَ قَالَ نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ وَطَاوُسٌ وَمُجَاهِدٌ وَالشَّعْبِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ وَعَلْقَمَةُ وَالْحَسَنُ هُوَ الْوَلِيُّ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلِيُّ عَقْدِ النِّكَاحِ الزَّوْجُ " وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَابْنُ لَهِيعَةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ خاوند اگر چاہے تو مکمل حق مہر ادا کر دے۔
(ب) ابراہیم رحمہ اللہ، علقمہ رحمہ اللہ اور حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ ولی ہے۔
(ج) سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نکاح کی گرہ کا ولی خاوند ہوتا ہے۔“
(ب) ابراہیم رحمہ اللہ، علقمہ رحمہ اللہ اور حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ ولی ہے۔
(ج) سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نکاح کی گرہ کا ولی خاوند ہوتا ہے۔“