السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: الشروط في النكاح باب: نکاح میں شرائط عائد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14437
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّابِقِ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَشَرَطَ لَهَا أَنْ لَا يُخْرِجَهَا فَوَضَعَ عَنْهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الشَّرْطَ، وَقَالَ: " الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا " وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن عبید بن سباق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں شادی کی اور یہ شرط رکھی کہ وہ اس کو ساتھ نہ نکالے گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ شرط ختم کر دی اور فرمایا: عورت خاوند کے ساتھ ہی ہوتی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف بھی منقول ہے۔