حدیث نمبر: 14442
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً وَشَرَطْتُ لَهَا الْفُرْقَةَ وَالْجِمَاعَ بِيَدِهَا فَقَالَ: " خَالَفْتَ السُّنَّةَ وَوَلَّيْتَ الْأَمْرَ غَيْرَ أَهْلِهِ فَالصَّدَاقُ وَالْفِرَاقُ وَالْجِمَاعُ بِيَدِكَ "، قَالَ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً وَشَرَطْتُ لَهَا إِنْ لَمْ أَجِيءْ بِكَذَا وَكَذَا إِلَى كَذَا وَكَذَا فَلَيْسَ لِي نِكَاحٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " النِّكَاحُ جَائِزٌ وَالشَّرْطُ لَيْسَ بِشَيْءٍ ".
حافظ ثناء اللہ

عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ایک عورت سے اس شرط پر شادی کی ہے کہ جدائی اور جماع اس کی مرضی سے ہوگا، فرماتے ہیں: تم نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور معاملہ تم نے اس کے سپرد کر دیا جو اس کا اہل نہیں ہے، حق مہر، جدائی اور جماع یہ معاملات تمہارے ہاتھ میں ہیں۔ ایک دوسرا شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے عورت سے نکاح اس شرط پر کرنے کا ارادہ کیا ہے کہ اگر وہ فلاں چیز اتنی اتنی نہ لائی تو کوئی نکاح نہیں ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نکاح جائز ہے لیکن شرط درست نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14442
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»