کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں مشرک کے نکاح سے متعلقہ مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: اس شخص کا بیان جو اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زیادہ عورتیں ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ قَالَ: الرَّبِيعُ أَحْسَبُهُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَا: أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا وَيَتْرُكَ سَائِرَهُنَّ " لَفْظُ حَدِيثِ إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سالم اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس بیویاں تھیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”چار کا انتخاب کر کے باقی کو چھوڑ دو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُقَالُ لَهُ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ كَانَ تَحْتَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَشْرُ نِسْوَةٍ، " فَأَسْلَمَ وَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَخَيَّرَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَهَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، مِنْ حُفَّاظِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، رَوَوْهُ هَكَذَا مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، جب وہ مسلمان ہوا تو اس کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، وہ بھی مسلمان ہو گئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کر لو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا "، وَهَكَذَا رَوَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيِّ، وَعِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ مَعْمَرٍ وَهَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ كُوفِيُّونَ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ وَهُوَ خُرَاسَانِيٌّ عَنْ مَعْمَرٍ، هَكَذَا مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ فَأَرْسَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کرلو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ”ان میں سے چار کا انتخاب کرلو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي ⦗٢٩٦⦘ إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ: " أَمْسِكْ أَرْبَعًا وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ثقیف کا ایک شخص اسلام لایا تو اس کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”چار کو اپنے نکاح میں رکھو باقی سب کو جدا کر دو۔“
وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِغَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ، حِينَ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ: " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا، وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُوَيْدَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی سوید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے فرمایا، جس وقت انہوں نے اسلام قبول کیا اور ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں کہ ”ان میں سے چار کو اختیار کرو اور باقی کو جدا کر دو۔“
وَرَوَاهُ عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: بَلَغَنَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِغَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ، لَمَّا أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ: " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا وَطَلِّقْ سَائِرَهُنَّ " أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، أنبأ اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، فَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
عثمان بن محمد بن ابی الاسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے فرمایا جب وہ مسلمان ہوئے اور ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں: ”چار کا انتخاب کرو، باقی سب کو طلاق دو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ الْحَجَّاجِ، يَقُولُ: أَهْلُ الْيَمَنِ أَعْرَفُ بِحَدِيثِ مَعْمَرٍ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَإِنَّهُ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ بِالْبَصْرَةِ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ عَنْهُ الْبَصْرِيُّونَ، فَإِنْ حَدَّثَ بِهِ ثِقَةٌ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ صَارَ الْحَدِيثُ حَدِيثًا، وَإِلَّا فَالْإِرْسَالُ أَوْلَى، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ غَيْرِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ مَعْمَرٍ كَذَلِكَ مَوْصُولًا وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ نَافِعٍ، وَسَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
احمد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: اہلِ یمن معمر کی حدیث کو دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں، کیونکہ معمر نے یہ حدیث زہری سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد سے بصرہ میں بیان کی ہے، اور اسے ان سے صرف اہلِ بصرہ نے روایت کیا ہے۔ اگر اہلِ بصرہ کے علاوہ کوئی ثقہ راوی اسے بیان کرے تو یہ حدیث (موصول) حدیث بن جائے گی، ورنہ اس کا مرسل ہونا زیادہ مناسب ہے۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے اسے اہلِ بصرہ کے علاوہ دوسرے راویوں سے بھی معمر کے واسطے سے اسی طرح موصول روایت کیا ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔ اور یہ ایک دوسری سند سے نافع اور سالم کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے اسے اہلِ بصرہ کے علاوہ دوسرے راویوں سے بھی معمر کے واسطے سے اسی طرح موصول روایت کیا ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔ اور یہ ایک دوسری سند سے نافع اور سالم کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ بِمِصْرَ، ثنا أَبُو بُرَيْدٍ عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو بُرَيْدٍ عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، ثنا سَيْفُ بْنُ ⦗٢٩٧⦘ عُبَيْدِ اللهِ الْجَرْمِيُّ، ثنا سِرَارٌ أَبُو عُبَيْدَةَ الْعَنَزِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، وَسَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا "، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ نَاجِيَةَ وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ سِرَارُ بْنُ مُجَشِّرٍ، وَقَالَ: إِنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ كَانَ عِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَأَسْلَمَ وَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، زَادَ ابْنُ نَاجِيَةَ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: فَلَمَّا كَانَ زَمَانُ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ وَقَسَمَ مَالَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَتَرْجِعَنَّ فِي مَالِكَ وَفِي نِسَائِكَ، أَوْ لَأَرْجُمَنَّ قَبْرَكَ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ رَحِمَهُ اللهُ: تَفَرَّدَ بِهِ سِرَارُ بْنُ مُجَشِّرٍ وَهُوَ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
سالم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی اسلام لائے تو ان کے نکاح میں نو عورتیں تھیں، نبی ﷺ نے فرمایا: ”چار کا انتخاب کر لو۔“
(ب) سرار بن محشر فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، جو ان کے ساتھ ہی مسلمان ہو گئیں اور ابن ناجیہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں انہوں نے طلاق دی اور ان کو مال تقسیم کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اپنے مال اور عورتوں میں واپس پلٹ یا میں تیری قبر کو رجم کروں گا، جیسے ابو رغال کی قبر کو رجم کیا گیا۔
ابو علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو بیان کرنے میں سرار بن مجشر منفرد ہیں، اور وہ بصری اور ثقہ ہیں۔
(ب) سرار بن محشر فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، جو ان کے ساتھ ہی مسلمان ہو گئیں اور ابن ناجیہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں انہوں نے طلاق دی اور ان کو مال تقسیم کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اپنے مال اور عورتوں میں واپس پلٹ یا میں تیری قبر کو رجم کروں گا، جیسے ابو رغال کی قبر کو رجم کیا گیا۔
ابو علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو بیان کرنے میں سرار بن مجشر منفرد ہیں، اور وہ بصری اور ثقہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ: " يُمْسِكَ أَرْبَعًا وَيُفَارِقَ سَائِرَهُنَّ قَالَ: وَأَسْلَمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ وَعِنْدَهُ ثَمَانِ نِسْوَةٍ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمْسِكَ أَرْبَعًا وَيُفَارِقَ سَائِرَهُنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا تو اس کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، رسول اللہ ﷺ نے چار کو رکھنے اور باقی کو چھوڑنے کا حکم فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ صفوان بن امیہ مسلمان ہوا تو اس کے نکاح میں ۸ عورتیں تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”چار کو روک لے اور باقی کو جدا کر دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى قَالَ هُشَيْمٌ: وَأَخْبَرَنِي الْكَلْبِيُّ، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ ثَمَانِ نِسْوَةٍ. قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا، وَقَالَ الْكَلْبِيُّ: قَالَ الْحَارِثُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي ثَمَانِ نِسْوَةٍ أَسْلَمْنَ مَعِي وَهَاجَرْنَ مَعِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا "، فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِلَّتِي أُرِيدُ إِمْسَاكَهَا أَقْبِلِي وَلِلَّتِي أُرِيدُ فِرَاقَهَا أَدْبِرِي قَالَ: فَتَقُولُ أَنْشُدُكَ الرَّحِمَ أَنْشُدُكَ الْوَلَدَ قَالَ الْكَلْبِيُّ: وَثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
حمیضہ بن شمردل فرماتے ہیں کہ حارث بن قیس رضی اللہ عنہ جس وقت مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں، ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے چار کے انتخاب کا حکم فرمایا، کلبی کہتے ہیں کہ حارث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اور میری آٹھ بیویاں بھی مسلمان ہو گئیں اے اللہ کے رسول! اور میرے ساتھ ہجرت بھی کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کر لو۔“ کہتے ہیں: جس کو میں نے رکھنا تھا اس سے کہتا: «أَقْبِلِي» ”آگے آؤ“، جس کو چھوڑنا ہوتا اس سے کہتا: «أَدْبِرِي» ”پیچھے جاؤ۔“ کہتے ہیں کہ وہ مجھے رشتہ داری اور بچوں کی قسمیں دے رہی تھیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، أنبأ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي ثَمَانِ نِسْوَةٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا ". ⦗٢٩٨⦘ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثنا بِهِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هُشَيْمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: قَيْسُ بْنُ الْحَارِثِ، مَكَانَ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: هَذَا هُوَ الصَّوَابُ يَعْنِي قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَاضِي الْكُوفَةِ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
حمیضہ بن شمردل حضرت حارث بن قیس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور میری ۸ بیویوں نے اسلام قبول کیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کرلو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَمِيرَةَ الْأَسَدِيِّ أَنَّ الْحَارِثَ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ ثَمَانِ نِسْوَةٍ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا "، وَرَوَاهُ مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ جَدَّهُ الْحَارِثَ بْنَ قَيْسٍ أَسْلَمَ، وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: أَسْلَمَ جَدِّي، وَهَذَا يُؤَكِّدُ رِوَايَةَ الْجُمْهُورِ، عَنْ هُشَيْمٍ حَيْثُ، قَالُوا: الْحَارِثُ بْنُ قَيْسٍ، وَيُؤَكِّدُ رِوَايَةَ ابْنِ أَبِي لَيْلَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ رحمہ اللہ حارث بن قیس بن عمیرہ اسدی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے نقل فرماتے ہیں کہ حارث رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ان کی آٹھ بیویاں تھیں، انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے چار کو اختیار کرو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: أَسْلَمَ جَدِّي وَعِنْدَهُ ثَمَانِ نِسْوَةٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا أَيَّتَهُنَّ شِئْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ربیع فرماتے ہیں کہ میرا دادا مسلمان ہوا تو اس کی آٹھ بیویاں تھیں۔ اس نے نبی ﷺ سے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں جو چار چاہو منتخب کر لو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي عَشْرُ ⦗٢٩٩⦘ نِسْوَةٍ أَرْبَعٌ مِنْهُنَّ مِنْ قُرَيْشٍ إِحْدَاهُنَّ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا وَخَلِّ سَائِرَهُنَّ "، فَاخْتَرْتُ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا مِنْهُنَّ ابْنَةُ أَبِي سُفْيَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبید اللہ ثقفی، حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مسلمان ہوا تو میرے نکاح میں دس عورتیں تھیں، چار قریشی تھیں، ان میں سے ایک ابوسفیان کی بیٹی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”ان میں چار کا انتخاب کرلو اور باقی کو چھوڑ دو۔“ تو میں نے چار کو منتخب کرلیا، ان میں سے ابوسفیان کی بیٹی بھی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حَاجِبُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَلَّبِ، ثنا آدَمُ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي خَمْسُ نِسْوَةٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " فَارِقْ وَاحِدَةً وَأَمْسِكْ أَرْبَعًا "، فَعَمَدْتُ إِلَى أَقْدَمِهِنَّ عِنْدِي عَاقِرٍ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً فَفَارَقْتُهَا.
حافظ ثناء اللہ
عوف بن حارث حضرت نوفل بن مغیرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا تو میرے نکاح میں پانچ عورتیں تھیں، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک کو جدا کر دو، باقی چار رکھ لو۔“ تو میں نے اپنی سب سے پرانی بیوی کو، جو ساٹھ سال سے بانجھ تھی، جدا کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ ابْنُ حَيَّانَ وَثَنَا الصُّوفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ح قَالَ: وَثَنَا عَبْدَانُ، ثنا بُنْدَارٌ، وَخَلِيفَةُ، قَالُوا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ قَالَ: " طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ "، وَرَوَاهُ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ، عَنْ بُنْدَارٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " اخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
ضحاک بن فیروز دیلمی اپنے والد (سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اسلام قبول کیا اور میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو۔“
(ب) وہب بن جریر کی حدیث ہے کہ ”ان میں سے جس کو چاہو، اختیار کرلو۔“
(ب) وہب بن جریر کی حدیث ہے کہ ”ان میں سے جس کو چاہو، اختیار کرلو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ ⦗٣٠٠⦘ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ امْرَأَتَانِ أُخْتَانِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ إِحْدَاهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ضحاک بن فیروز دیلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد (سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ) نے اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دو بہنیں تھیں، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا: ”تم ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِي خِرَاشٍ، عَنِ الدَّيْلَمِيِّ، أَوْ عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: " أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُمْسِكَ أَيَّتَهُمَا شِئْتُ وَأُفَارِقَ الْأُخْرَى "، زَادَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ فِي إِسْنَادِهِ أَبَا خِرَاشٍ، وَإِسْحَاقُ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرِوَايَةُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَصَحُّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو خراش، دیلمی یا ابن دیلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا تو میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں، جب میں نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے جس کو چاہو رکھ لو، جس کو چاہو چھوڑ دو۔“
اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے اس کی سند میں ابو خراش کا اضافہ کیا ہے، اور اسحاق سے حجت نہیں لی جاتی، اور یزید بن ابی حبیب کی روایت زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔
اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے اس کی سند میں ابو خراش کا اضافہ کیا ہے، اور اسحاق سے حجت نہیں لی جاتی، اور یزید بن ابی حبیب کی روایت زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔