السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب نكاح المشرك -- باب: من يسلم وعنده أكثر من أربع نسوة باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں مشرک کے نکاح سے متعلقہ مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: اس شخص کا بیان جو اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زیادہ عورتیں ہوں۔
حدیث نمبر: 14049
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ بِمِصْرَ، ثنا أَبُو بُرَيْدٍ عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو بُرَيْدٍ عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، ثنا سَيْفُ بْنُ ⦗٢٩٧⦘ عُبَيْدِ اللهِ الْجَرْمِيُّ، ثنا سِرَارٌ أَبُو عُبَيْدَةَ الْعَنَزِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، وَسَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا "، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ نَاجِيَةَ وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ سِرَارُ بْنُ مُجَشِّرٍ، وَقَالَ: إِنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ كَانَ عِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَأَسْلَمَ وَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، زَادَ ابْنُ نَاجِيَةَ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: فَلَمَّا كَانَ زَمَانُ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ وَقَسَمَ مَالَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَتَرْجِعَنَّ فِي مَالِكَ وَفِي نِسَائِكَ، أَوْ لَأَرْجُمَنَّ قَبْرَكَ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ رَحِمَهُ اللهُ: تَفَرَّدَ بِهِ سِرَارُ بْنُ مُجَشِّرٍ وَهُوَ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ.حافظ ثناء اللہ
سالم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی اسلام لائے تو ان کے نکاح میں نو عورتیں تھیں، نبی ﷺ نے فرمایا: ”چار کا انتخاب کر لو۔“
(ب) سرار بن محشر فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، جو ان کے ساتھ ہی مسلمان ہو گئیں اور ابن ناجیہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں انہوں نے طلاق دی اور ان کو مال تقسیم کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اپنے مال اور عورتوں میں واپس پلٹ یا میں تیری قبر کو رجم کروں گا، جیسے ابو رغال کی قبر کو رجم کیا گیا۔