کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورت اور اس کی پھوپھی کو، نیز عورت اور اس کی خالہ کو (بیک وقت نکاح میں) جمع کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ " حَتَّى يُخْرِجَهَا مِنْ مِلْكِهِ أَوْ يُزَوِّجَهَا " أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا مُعَاذٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنِ الْحَسَنِ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہاں تک کہ وہ اسے اپنی ملکیت سے نکال دے یا اس کا نکاح کر دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُونُسُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّارَبِرْدِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خالہ اور بھانجی، پھوپھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَبَيْنَهَا وَبَيْنَ خَالَتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَخَالَتُهَا ⦗٢٦٨⦘ وَلَا الْمَرْأَةُ وَعَمَّتُهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ شَبَابَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " "، وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورت اور اس کی پھوپھی کو (ایک نکاح میں) جمع نہ کیا جائے اور نہ عورت اور اس کی خالہ کو۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا الْمُعَلَّى يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ يُجْمَعُ بَيْنَهُنَّ عَنِ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ”چار عورتوں کو (ایک نکاح میں) جمع کرنے سے منع فرمایا: عورت اور اس کی پھوپھی، اور عورت اور اس کی خالہ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرِ بْنِ حَبِيبٍ السَّهْمِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت سے اس کی پھوپھی پر نکاح نہ کیا جائے اور نہ اس کی خالہ پر۔“
أَمَّا حَدِيثُ دَاوُدَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا الْعَمَّةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا، وَلَا الْخَالَةُ عَلَى ابْنَةِ أُخْتِهَا، لَا الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى، وَلَا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت اپنی پھوپھی پر اور اپنی خالہ پر نکاح نہ کی جائے اور پھوپھی کا نکاح بھتیجی اور خالہ کا نکاح بھانجی پر نہ کیا جائے اور چھوٹی بڑی پر اور بڑی چھوٹی پر نکاح نہ کی جائے۔“
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عَوْنٍ فَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ، ثنا بُنْدَارٌ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " نَهَى أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ، يَعْنِي الْمَرْأَةَ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا أَوِ ابْنَةِ أُخْتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ”کسی عورت کا نکاح، بھتیجی پر یا بھانجی پر کیا جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، فَذَكَرَ حَدِيثَ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا مَضَى، ثُمَّ قَالَ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ مَنْ لَقِيتُ مِنَ الْمُفْتِينَ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ فِيمَا عَلِمْتُهُ، وَلَمْ يُرْوَ مِنْ وَجْهٍ يُثْبِتُهُ أَهْلُ الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ لَا يُثْبِتُهُ أَهْلُ الْحَدِيثِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، وَفِي هَذَا حُجَّةٌ عَلَى مَنْ رَدَّ الْحَدِيثَ، وَعَلَى مَنْ أَخَذَ بِالْحَدِيثِ مَرَّةً وَتَرَكَ أُخْرَى، وَأَطَالَ الْكَلَامَ فِي هَذَا، وَأَجَادَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالَّذِي ذُكِرَ مِنْ أَنَّهُ يُرْوَى مِنْ غَيْرِ جِهَةِ أَبِي ⦗٢٧٠⦘ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَمَا قَالَ: فَإِنَّهُ يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، وَمِنَ النِّسَاءِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا أَنَّ جَمِيعَ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ لَيْسَتْ مِنْ شَرْطِ صَاحِبَيِ الصَّحِيحِ الْبُخَارِيِّ، وَمُسْلِمٍ، وَإِنَّمَا اتَّفَقَا، وَمَنْ قَبْلَهُمَا، وَمَنْ بَعْدَهُمَا مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ عَلَى إِثْبَاتِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَابِ فَقَطْ، كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ رِوَايَةَ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَّا أَنَّهُمْ يَرَوْنَ أَنَّهَا خَطَأٌ وَأَنَّ الصَّوَابَ رِوَايَةُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے اعرج کی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، جیسے پہلے گزر گئی، پھر فرمایا: ہم بھی اسی قول کو لیتے ہیں، تمام مفتیوں کا بھی یہی قول ہے، ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور یہ صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نبی ﷺ سے روایت کرنا ہی ثابت ہے اور محدثین کے نزدیک کسی دوسری سند سے ثابت نہیں ہے اور یہ دلیل اس کے خلاف ہے جس نے حدیث کو رد کر دیا ہے اور اس کے خلاف بھی جو کبھی حدیث کو لیتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس پر طویل اور عمدہ کلام کیا ہے۔ اور جو انہوں نے ذکر کیا کہ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسروں سے بھی مروی ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسا انہوں نے فرمایا: یہ سیدنا علی، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمرو بن عاص، ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم اجمعین سے اور عورتوں میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، یہ سب نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں، لیکن یہ تمام روایات صحیح کے دونوں مصنفین امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر نہیں ہیں، اور ان دونوں نے اور ان سے پہلے اور بعد کے ائمہ حدیث نے اس باب میں صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ثابت ہونے پر اتفاق کیا ہے، جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا۔ امام بخاری نے عاصم احول کی روایت شعبی سے، انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے، لیکن محدثین اسے غلطی سمجھتے ہیں اور درست وہ روایت ہے جو داؤد بن ابی ہند اور عبداللہ بن عون نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس پر طویل اور عمدہ کلام کیا ہے۔ اور جو انہوں نے ذکر کیا کہ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسروں سے بھی مروی ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسا انہوں نے فرمایا: یہ سیدنا علی، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمرو بن عاص، ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم اجمعین سے اور عورتوں میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، یہ سب نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں، لیکن یہ تمام روایات صحیح کے دونوں مصنفین امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر نہیں ہیں، اور ان دونوں نے اور ان سے پہلے اور بعد کے ائمہ حدیث نے اس باب میں صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ثابت ہونے پر اتفاق کیا ہے، جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا۔ امام بخاری نے عاصم احول کی روایت شعبی سے، انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے، لیکن محدثین اسے غلطی سمجھتے ہیں اور درست وہ روایت ہے جو داؤد بن ابی ہند اور عبداللہ بن عون نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ واللہ اعلم۔