السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في الجمع بين المرأة، وعمتها وبينها وبين خالتها باب: عورت اور اس کی پھوپھی کو، نیز عورت اور اس کی خالہ کو (بیک وقت نکاح میں) جمع کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13947
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرِ بْنِ حَبِيبٍ السَّهْمِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ”کسی عورت کا نکاح اس کی پھوپھی یا (فرمایا:) اس کی خالہ پر کیا جائے۔“
(ب) محاصر سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت اپنی پھوپھی اور اپنی خالہ پر نکاح نہ کی جائے۔“