کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13928
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّهُ " كَرِهَ مِنَ الْإِمَاءِ، مَا كَرِهَ مِنَ الْحَرَائِرِ إِلَّا الْعَدَدَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا مِنْ قَوْلِ عَمَّارٍ إِنْ شَاءَ اللهُ فِي مَعْنَى الْقُرْآنِ وَبِهِ نَأْخُذُ.
حافظ ثناء اللہ
ابواخضر حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ لونڈیوں کے بارے میں بھی اسی چیز کو مکروہ خیال کرتے تھے، جسے آزاد عورتوں کے بارے میں ناپسند کرتے تھے (یعنی رشتہ قائم کرنے میں) سوائے مخصوص تعداد کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ عمار رضی اللہ عنہ کا قول قرآن کے موافق ہے اور ہم بھی اسی پر عمل کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13929
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ سَوَّارٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٢٦٥⦘ عُتْبَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " يُحَرَّمُ مِنَ الْإِمَاءِ، مَا يُحَرَّمُ مِنَ الْحَرَائِرِ إِلَّا الْعَدَدَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لونڈیوں سے بھی وہ رشتے حرام ہیں جو آزاد سے حرام ہیں، سوائے تعداد کے۔
حدیث نمبر: 13930
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأُخْتَيْنِ مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، وَأَمَّا أَنَا فَلَا أُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ هَذَا قَالَ: فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ كَانَ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ ثُمَّ وَجَدْتُ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِكَ لَجَعَلْتُهُ نَكَالًا " قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مَالِكٌ: وَبَلَغَنِي عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ مِثْلُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
قبیصہ بن ذویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا دو بہنیں جو لونڈی ہوں، ان کو ایک جگہ جمع کیا جاسکتا ہے؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آیت حلت اور دوسری آیت حرمت پر دلالت کرتی ہے، لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ قبیصہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکل کر نبی کریم ﷺ کے صحابہ سے ملا، انہوں نے فرمایا: اگر میرے اختیار میں کوئی چیز ہو، پھر میں کسی کو پا لوں کہ اس نے ایسا کیا ہے تو میں اسے لوگوں کے لیے عبرت بنا دوں۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زہری رحمہ اللہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 13931
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ فِيمَا مَلَكَتِ الْيَمِينُ قَالَ: أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ أَنَّ نِيَارًا الْأَسْلَمِيَّ، سَأَلَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأُخْتَيْنِ، فِيمَا مَلَكَتِ الْيَمِينُ، فَقَالَ لَهُ: " أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ وَلَمْ أَكُنْ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ قَالَ: فَخَرَجَ نِيَارٌ مِنْ عِنْدِ ذَاكَ الرَّجُلِ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَفْتَاكَ بِهِ صَاحِبُكَ الَّذِي اسْتَفْتَيْتَهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَنْهَاكَ عَنْهُمَا، وَلَوْ جَمَعْتَ بَيْنَهُمَا وَلِي عَلَيْكَ سُلْطَانٌ عَاقَبْتُكَ عُقُوبَةً مُنَكِّلَةً ".
حافظ ثناء اللہ
یونس ابن شہاب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے دو لونڈیاں جو آپس میں بہنیں ہوں ان کو ایک جگہ جمع کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ نیار اسلمی رحمہ اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے سوال کیا کہ کیا دو بہنیں جو لونڈیاں ہوں ان کو ایک ملکیت میں جمع کیا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”ایک آیت دونوں کو حلال قرار دیتی ہے جبکہ دوسری حرام قرار دیتی ہے، لیکن میں ایسا نہیں کرتا۔“ تو نیار اسلمی رحمہ اللہ اس آدمی کے پاس سے نکلے تو دوسرے صحابیِ رسول ﷺ سے ملے، انہوں نے پوچھا: ”جس سے آپ نے فتویٰ طلب کیا تھا اس نے کیا فتویٰ دیا ہے؟“ انہوں نے خبر دی تو وہ کہنے لگے: ”میں ان دونوں کو جمع کرنے سے منع کرتا ہوں۔ اگر تو دونوں کو جمع کرے گا اور میرے لیے حکومت ہو تو میں تجھے ایسی سزا دوں جو دوسروں کے لیے عبرت بن جائے۔“
حدیث نمبر: 13932
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ ⦗٢٦٦⦘ هَلْ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَى؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهُمَا جَمِيعًا " وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ: أَنْ أُجِيزَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ماں اور بیٹی جو کسی ایک کی ملکیت میں ہوں، کیا ان میں سے ایک کے ساتھ مجامعت کے بعد دوسری سے مجامعت کی جائے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں ان دونوں کو اکٹھے جائز خیال نہیں کرتا۔ احمد کی روایت میں ہے کہ میں ان کو جائز خیال نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 13933
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو زَكَرِيَّا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأُمِّ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ، فَقَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنْ يُجِيزَهُمَا جَمِيعًا " قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: قَالَ أَبِي: فَوَدِدْتُ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ أَشَدَّ فِي ذَلِكَ مِمَّا هُوَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ غَلِطَ الْمُزَنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَدِدْتُ، وَإِنَّمَا هُوَ ابْنُ عُتْبَةَ لَا شَكَّ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان لونڈیوں کے متعلق سوال ہوا جو آپس میں ماں بیٹی ہوں، تو وہ فرمانے لگے: میں ان دونوں کو اکٹھے جائز قرار نہیں دیتا۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس میں زیادہ سختی فرماتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: مزنی رحمہ اللہ سے غلطی ہوگئی، اللہ تعالیٰ ہم پر اور ان پر رحم فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں چاہتا ہوں۔ وہ عتبہ کے بیٹے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: مزنی رحمہ اللہ سے غلطی ہوگئی، اللہ تعالیٰ ہم پر اور ان پر رحم فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں چاہتا ہوں۔ وہ عتبہ کے بیٹے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13934
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو زَكَرِيَّا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُخْبِرُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَعْمَرٍ، جَاءَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا: إِنَّ لِي سُرِّيَّةً أَصَبْتُهَا، وَإِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ لَهَا ابْنَةٌ جَارِيَةٌ لِي، أَفَأَسْتَسِرُّ ابْنَتَهَا؟ فَقَالَتْ: " لَا " قَالَ: فَإِنِّي وَاللهِ لَا أَدَعُهَا إِلَّا أَنْ تَقُولِي حَرَّمَهَا اللهُ، فَقَالَتْ: " لَا يَفْعَلُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِي، وَلَا أَحَدٌ أَطَاعَنِي ".
حافظ ثناء اللہ
معاذ بن عبیداللہ بن معمر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہنے لگے: میری ایک لونڈی تھی، میں نے اس سے مجامعت کر لی اور اس کی بیٹی (بھی) میری لونڈی ہے، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہ چھوڑوں گا کہ آپ کہہ دیں کہ اللہ نے حرام قرار دیا ہے، آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نہ تو میرے اہل میں سے کسی نے ایسا کیا ہے اور نہ ہی میری اطاعت کرنے والوں میں سے کسی نے ایسا کیا ہے۔
حدیث نمبر: 13935
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا أَبُو قَطَنٍ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فِي الْأُخْتَيْنِ الْمَمْلُوكَتَيْنِ: " أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ، وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، فَلَا آمُرُ وَلَا أَنْهَى وَلَا أُحِلُّ وَلَا أُحَرِّمُ وَلَا أَفْعَلُهُ أَنَا وَلَا أَهْلُ بَيْتِي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ دو لونڈی بہنوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت دونوں کو حلال قرار دیتی ہے جبکہ دوسری آیت حرام قرار دیتی ہے، فرماتے ہیں: نہ تو میں حکم دیتا ہوں اور نہ ہی منع کرتا ہوں، نہ میں حلال قرار دیتا ہوں اور نہ ہی حرام، اور نہ تو میں ایسا کرتا ہوں اور نہ ہی میرے اہل میں سے کسی نے ایسا کیا ہے۔
حدیث نمبر: 13936
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنبأ ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ سِمَاكٌ، عَنْ حَنَشٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ جَارِيَتَانِ أُخْتَانِ، فَيَطَأُ إِحْدَاهُمَا أَيَطَأُ الْأُخْرَى؟ فَقَالَ: " أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ، وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، وَأَنَا أَنْهَى عَنْهُمَا نَفْسِي وَوَلَدِي "، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْجَارِيَةِ وَابْنَتِهَا مِثْلُ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس کی دو لونڈیاں تھیں اور دونوں بہنیں تھیں، وہ ایک سے مجامعت کرتا ہے کیا وہ دوسری سے بھی مجامعت کرے؟ انہوں نے فرمایا: ”ایک آیت حلال قرار دیتی ہے جبکہ دوسری حرام قرار دیتی ہے اور میں نے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو ان سے منع کر رکھا ہے۔“
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لونڈی اور اس کی بچی کے بارے میں اسی طرح کا حکم منقول ہے۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لونڈی اور اس کی بچی کے بارے میں اسی طرح کا حکم منقول ہے۔
حدیث نمبر: 13937
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّيْبَلِيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَوْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْأُخْتَيْنِ مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ، فَقَالُوا: إِنَّ عَلِيًّا قَالَ: أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ، وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " عِنْدَ ذَلِكَ أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، إِنَّمَا تُحَرِّمُهُنَّ عَلَى قَرَابَتِي مِنْهُنَّ، وَلَا يُحَرِّمُهُنَّ عَلَى قَرَابَةِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا گیا کہ دونوں بہنیں لونڈیاں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آیت ان کو حلال اور دوسری آیت حرام قرار دیتی ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت فرمایا کہ ان دونوں کو ایک آیت حرام اور دوسری حلال قرار دیتی ہے، ان میں سے بعض تو میرے اوپر اب حرام قرار دیتے قرابتداری کی وجہ سے اور ایک دوسرے کی قرابتداری کی وجہ سے وہ میرے اوپر حرام قرار نہ دیتے، اللہ کے فرمان کی وجہ سے: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] ”اور پاک دامن عورتوں سے مگر جو تمہاری لونڈیاں ہوں۔“
حدیث نمبر: 13938
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ، ⦗٢٦٧⦘ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَهُ رَجُلٌ لَهُ أَمَتَانِ أُخْتَانِ وَطِئَ إِحْدَاهُمَا، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَطَأَ الْأُخْرَى قَالَ: " لَا حَتَّى يُخْرِجَهَا مِنْ مِلْكِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ اس کی دو لونڈیاں ہیں جو دونوں بہنیں ہیں، اس نے ایک سے مجامعت کر لی اور دوسری سے مجامعت کا ارادہ ہے؟ فرمانے لگے: اس کی ملک سے نکلنے تک جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13939
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ يَعْنِي الْجَزَرِيَّ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَمْلُوكَتَانِ أُخْتَانِ فَوَطِئَ إِحْدَاهُمَا، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَطَأَ الْأُخْرَى، فَأَخْرَجَ الَّتِي وَطِئَ مِنْ مِلْكِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی دو لونڈیاں جو آپس میں بہنیں تھیں، انہوں نے ایک سے وطی کی۔ پھر دوسری سے وطی کا ارادہ کیا تو جس سے وطی کی تھی اس کو اپنی ملکیت سے نکال دیا۔
(ب) میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جس کی دو لونڈیاں ہوں جو آپس میں بہنیں ہوں، وہ ایک سے صحبت کرلیتا ہے تو دوسری سے اتنی دیر مجامعت نہ کرے جتنی دیر پہلی کو اپنی ملکیت سے نہ نکال دے۔
(ب) میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جس کی دو لونڈیاں ہوں جو آپس میں بہنیں ہوں، وہ ایک سے صحبت کرلیتا ہے تو دوسری سے اتنی دیر مجامعت نہ کرے جتنی دیر پہلی کو اپنی ملکیت سے نہ نکال دے۔
حدیث نمبر: 13940
وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ جَارِيَتَانِ أُخْتَانِ، فَغَشِيَ إِحْدَاهُمَا، فَلَا يَقْرَبِ الْأُخْرَى حَتَّى يُخْرِجَ الَّتِي غَشِيَ مِنْ مِلْكِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
قبیصہ بن ذوئب نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ نے ”پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو جمع کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔