السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في الجمع بين المرأة، وعمتها وبينها وبين خالتها باب: عورت اور اس کی پھوپھی کو، نیز عورت اور اس کی خالہ کو (بیک وقت نکاح میں) جمع کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13946
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا الْمُعَلَّى يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ يُجْمَعُ بَيْنَهُنَّ عَنِ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”بھتیجی سے نکاح پھوپھی کی موجودگی میں اور بھانجی سے نکاح خالہ کی موجودگی میں نہ کیا جائے (یعنی دونوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کیا)۔“