کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان صورتوں کا بیان جن میں کسی شخص کی بیوی اور اس (کی دوسری بیوی) کی بیٹی کو (نکاح میں) جمع کرنا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 13951
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ، " جَمَعَ بَيْنَ بِنْتِ عَلِيٍّ، وَامْرَأَةِ عَلِيٍّ، ثُمَّ مَاتَتْ بِنْتُ عَلِيٍّ، فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا بِنْتًا لِعَلِيٍّ أُخْرَى "، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور ان کی بیوی کو ایک نکاح میں رکھا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی فوت ہو گئیں تو انہوں نے ان کی دوسری بیٹی سے شادی کر لی۔
حدیث نمبر: 13952
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ قُثَمٍ مَوْلَى آلِ الْعَبَّاسِ قَالَ: جَمَعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْنَ لَيْلَى بِنْتِ مَسْعُودٍ النَّهْشَلِيَّةِ، وَكَانَتِ امْرَأَةَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَبَيْنَ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَكَانَتَا امْرَأَتَيْهِ "، وَيُذْكَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يُقَالُ لَهُ جَبَلَةُ جَمَعَ بَيْنَ امْرَأَةِ رَجُلٍ وَابْنَتِهِ مِنْ غَيْرِهَا، ⦗٢٧١⦘ وَعَنْ أَيُّوبَ أَنَّهُ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ قَرْحَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ امْرَأَةِ رَجُلٍ وَابْنَتِهِ مِنْ غَيْرِهَا.
حافظ ثناء اللہ
قثم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے لیلیٰ بنت مسعود نہشلیہ جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی اور ام کلثوم جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے، دونوں کو اپنے نکاح میں رکھا۔
(ب) محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل مصر کا ایک شخص جس کو جبلہ کہا جاتا تھا اور وہ صحابی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے ایک شخص کی بیوی اور بیٹی کو ایک نکاح میں رکھا جو کسی دوسری بیوی سے تھی۔
(ج) ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعد بن قرحا رضی اللہ عنہ جو نبی ﷺ کے صحابی ہیں، انہوں نے ایک شخص کی بیوی اور اس کی بیٹی جو کسی دوسری بیوی سے تھی، دونوں کو ایک نکاح میں جمع کیا۔
(ب) محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل مصر کا ایک شخص جس کو جبلہ کہا جاتا تھا اور وہ صحابی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے ایک شخص کی بیوی اور بیٹی کو ایک نکاح میں رکھا جو کسی دوسری بیوی سے تھی۔
(ج) ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعد بن قرحا رضی اللہ عنہ جو نبی ﷺ کے صحابی ہیں، انہوں نے ایک شخص کی بیوی اور اس کی بیٹی جو کسی دوسری بیوی سے تھی، دونوں کو ایک نکاح میں جمع کیا۔
حدیث نمبر: 13953
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: " جَمَعَ ابْنُ عَمٍّ لِي بَيْنَ ابْنَتَيْ عَمٍّ لَهُ، فَأَصْبَحَ النِّسَاءُ لَا يَدْرِينَ أَيْنَ يَذْهَبْنَ " قَالَ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ يَعْنِي ابْنَتَيْ عَمَّيْنِ لَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے چچا کے بیٹے نے اپنے چچا کی دو بیٹیاں اپنے نکاح میں جمع کر رکھی تھیں، عورتیں جاتیں تو وہ نہیں جانتیں کہ وہ کدھر جائیں۔ احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اپنے دو چچاؤں کی بیٹیاں۔