السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في الجمع بين المرأة، وعمتها وبينها وبين خالتها باب: عورت اور اس کی پھوپھی کو، نیز عورت اور اس کی خالہ کو (بیک وقت نکاح میں) جمع کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، فَذَكَرَ حَدِيثَ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا مَضَى، ثُمَّ قَالَ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ مَنْ لَقِيتُ مِنَ الْمُفْتِينَ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ فِيمَا عَلِمْتُهُ، وَلَمْ يُرْوَ مِنْ وَجْهٍ يُثْبِتُهُ أَهْلُ الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ لَا يُثْبِتُهُ أَهْلُ الْحَدِيثِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، وَفِي هَذَا حُجَّةٌ عَلَى مَنْ رَدَّ الْحَدِيثَ، وَعَلَى مَنْ أَخَذَ بِالْحَدِيثِ مَرَّةً وَتَرَكَ أُخْرَى، وَأَطَالَ الْكَلَامَ فِي هَذَا، وَأَجَادَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالَّذِي ذُكِرَ مِنْ أَنَّهُ يُرْوَى مِنْ غَيْرِ جِهَةِ أَبِي ⦗٢٧٠⦘ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَمَا قَالَ: فَإِنَّهُ يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، وَمِنَ النِّسَاءِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا أَنَّ جَمِيعَ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ لَيْسَتْ مِنْ شَرْطِ صَاحِبَيِ الصَّحِيحِ الْبُخَارِيِّ، وَمُسْلِمٍ، وَإِنَّمَا اتَّفَقَا، وَمَنْ قَبْلَهُمَا، وَمَنْ بَعْدَهُمَا مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ عَلَى إِثْبَاتِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَابِ فَقَطْ، كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ رِوَايَةَ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَّا أَنَّهُمْ يَرَوْنَ أَنَّهَا خَطَأٌ وَأَنَّ الصَّوَابَ رِوَايَةُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.امام شافعی رحمہ اللہ نے اعرج کی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، جیسے پہلے گزر گئی، پھر فرمایا: ہم بھی اسی قول کو لیتے ہیں، تمام مفتیوں کا بھی یہی قول ہے، ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور یہ صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نبی ﷺ سے روایت کرنا ہی ثابت ہے اور محدثین کے نزدیک کسی دوسری سند سے ثابت نہیں ہے اور یہ دلیل اس کے خلاف ہے جس نے حدیث کو رد کر دیا ہے اور اس کے خلاف بھی جو کبھی حدیث کو لیتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس پر طویل اور عمدہ کلام کیا ہے۔ اور جو انہوں نے ذکر کیا کہ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسروں سے بھی مروی ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسا انہوں نے فرمایا: یہ سیدنا علی، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمرو بن عاص، ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم اجمعین سے اور عورتوں میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، یہ سب نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں، لیکن یہ تمام روایات صحیح کے دونوں مصنفین امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر نہیں ہیں، اور ان دونوں نے اور ان سے پہلے اور بعد کے ائمہ حدیث نے اس باب میں صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ثابت ہونے پر اتفاق کیا ہے، جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا۔ امام بخاری نے عاصم احول کی روایت شعبی سے، انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے، لیکن محدثین اسے غلطی سمجھتے ہیں اور درست وہ روایت ہے جو داؤد بن ابی ہند اور عبداللہ بن عون نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ واللہ اعلم۔