کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کہ نبی کریم ﷺ کی ان خصوصیات میں آپ کی اقتدا نہیں کی جائے گی جو آپ کے ساتھ خاص ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر امور میں آپ کی اقتدا کی جائے گی
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَمَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَهُ وَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ الْحِجْرِ يُحَذِّرُ الْفِتَنَ وَقَالَ: " إِنِّي وَاللهِ لَا يُمْسِكُ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ إِلَّا أَنِّي " لَا أُحِلُّ إِلَّا مَا أَحَلَّ اللهُ فِي كِتَابِهِ، وَلَا أُحَرِّمُ، إِلَّا مَا حَرَّمَ اللهُ فِي كِتَابِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، (راوی نے) لمبی حدیث ذکر کی۔ پھر راوی نے کہا کہ نبی ﷺ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہے اور حِجر کے پہلو میں بیٹھ گئے اور فتنوں سے ڈراتے تھے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہیں پکڑ سکتے، سوائے اس کے کہ میں صرف وہی چیز حلال کرتا ہوں جس کو اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حلال کیا ہے اور میں نہیں حرام کرتا مگر اس چیز کو جس کو اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حرام کیا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، بِإِسْنَادِهِ يَعْنِي عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُمْسِكَنَّ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ وَإِنِّي " لَا أُحِلُّ لَهُمْ، إِلَّا مَا أَحَلَّ اللهُ لَهُمْ، وَلَا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ، إِلَّا مَا حَرَّمَ اللهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا مُنْقَطِعٌ وَلَوْ ثَبَتَ فَبَيِّنٌ فِيهِ أَنَّهُ عَلَى مَا وَصَفْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى قَالَ: " لَا يُمْسِكَنَّ النَّاسُ عَلَيَّ، وَلَمْ يَقُلْ لَا يُمْسِكُوا عَنِّي بَلْ قَدْ أَمَرَ بِأَنْ يُمْسَكَ عَنْهُ، وَأَمَرَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت ہرگز نہ پکڑیں، کیونکہ میں ان کے لیے صرف وہی حلال کرتا ہوں جو اللہ نے ان کے لیے حلال کیا ہے اور ان پر صرف وہی حرام کرتا ہوں جو اللہ نے حرام کیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت منقطع ہے، اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو اس میں واضح ہے کہ یہ اسی معنی پر ہے جو میں نے بیان کیا، ان شاء اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہ پکڑیں“، یہ نہیں فرمایا کہ ”مجھ سے (منقول چیزوں کو) نہ پکڑیں“، بلکہ آپ ﷺ نے تو حکم دیا ہے کہ آپ سے (منقول چیزوں کو) مضبوطی سے پکڑا جائے، اور اللہ جل ثناؤہ نے بھی اسی کا حکم دیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت منقطع ہے، اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو اس میں واضح ہے کہ یہ اسی معنی پر ہے جو میں نے بیان کیا، ان شاء اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہ پکڑیں“، یہ نہیں فرمایا کہ ”مجھ سے (منقول چیزوں کو) نہ پکڑیں“، بلکہ آپ ﷺ نے تو حکم دیا ہے کہ آپ سے (منقول چیزوں کو) مضبوطی سے پکڑا جائے، اور اللہ جل ثناؤہ نے بھی اسی کا حکم دیا ہے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللهِ اتَّبَعْنَاهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَقَدْ أَمَرَ بِاتِّبَاعِ مَا أَمَرَ بِهِ، وَاجْتِنَابِ مَا نَهَى عَنْهُ، وَفَرَضَ اللهُ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ عَلَى خَلْقِهِ، وَمَا فِي أَيْدِي النَّاسِ مِنْ هَذَا، إِلَّا مَا تُمْسِكُوا بِهِ عَنِ اللهِ، ثُمَّ عَنِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ دِلَالَتِهِ، وَلَكِنْ قَوْلُهُ: إِنْ كَانَ قَالَهُ لَا يُمْسِكَنَّ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِمَوْضِعِ الْقُدْوَةِ، فَقَدْ كَانَتْ لَهُ خَوَاصُّ أُبِيحَ لَهُ فِيهَا، مَا لَمْ يُبَحْ لِلنَّاسِ، وَحُرِّمَ عَلَيْهِ فِيهَا، مَا لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: لَا يُمْسِكَنَّ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ مِنَ الَّذِي لِي، أَوْ عَلَيَّ دُونَهُمْ، فَإِنْ كَانَ مِمَّا عَلَيَّ وَلِي دُونَهُمْ فَلَا يُمْسِكَنَّ بِهِ، وَذَلِكَ مِثْلُ أَنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَحَلَّ لَهُ مِنْ عَدَدِ النِّسَاءِ مَا شَاءَ، وَأَنْ يَسْتَنْكِحَ الْمَرْأَةَ إِذَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَهُ، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ} [الأحزاب: ٥٠]، فَلَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: قَدْ جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ، وَنَكَحَ امْرَأَةً بِغَيْرِ مَهْرٍ، وَأَخَذَ صَفِيًّا مِنَ الْمَغْنَمِ، وَكَانَ لَهُ خُمْسُ الْخُمُسِ، فَلَا يَكُونُ ذَلِكَ لِلْمُؤْمِنِينَ بَعْدَهُ وَلَا لِوُلَاتِهِمْ كَمَا يَكُونُ لَهُ؛ لِأَنَّ اللهَ قَدْ بَيَّنَ فِي كِتَابِهِ وَعَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٢١⦘ أَنَّ ذَلِكَ لَهُ دُونَهُمْ، وَفَرَضَ اللهُ أَنْ يُخَيِّرَ أَزْوَاجَهُ فِي الْمُقَامِ مَعَهُ وَالْفِرَاقِ فَلَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: عَلَيَّ أَنْ أُخَيِّرَ امْرَأَتِي عَلَى مَا فَرَضَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ قَالَهُ: " لَا يُمْسِكَنَّ عَلَيَّ النَّاسُ بِشَيْءٍ " قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا تَوَقَّفَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي صِحَّةِ الْخَبَرِ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ قَالَهُ لِأَنَّ الْحَدِيثَ مُرْسَلٌ وَلَيْسَ مَعَهُ مَا يُؤَكِّدُهُ إِلَّا أَنْ كَانَ مَحْمُولًا عَلَى مَا قَالَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، فَيَكُونُ وَاضِحًا وَلِلْأُصُولِ مُوَافِقًا.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیے پر ٹیک لگانے والا ہو اور اس کے پاس میرا کوئی ایسا معاملہ آئے جس کا میں نے حکم دیا ہو یا ایسا معاملہ جس سے میں نے منع کیا ہو، اور وہ کہے کہ میں تو صرف اس کی اتباع کروں گا جو ہم نے کتاب اللہ میں پایا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تو آپ ﷺ نے اپنے حکم کی اتباع اور اپنی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کا حکم دیا، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنی مخلوق پر یہ فرض کیا ہے، اور لوگوں کے پاس اس میں سے صرف وہی ہے جسے انہوں نے اللہ سے، پھر رسول اللہ ﷺ سے، پھر آپ ﷺ کی رہنمائی سے تھاما ہے۔ لیکن آپ ﷺ کا یہ فرمان، اگر آپ نے فرمایا ہو: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہ پکڑیں“، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی ﷺ چونکہ پیشوائی کے مقام پر تھے، اس لیے آپ ﷺ کی کچھ خصوصیات تھیں جن میں آپ کے لیے وہ چیزیں مباح کی گئیں جو لوگوں کے لیے مباح نہیں کی گئیں، اور آپ پر وہ چیزیں حرام کی گئیں جو لوگوں پر حرام نہیں کی گئیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ مجھ پر اس چیز کی حجت نہ پکڑیں جو ان کے بجائے صرف میرے لیے یا صرف مجھ پر ہے؛ اگر وہ ان چیزوں میں سے ہو جو ان کے بجائے صرف مجھ پر یا میرے لیے ہیں تو وہ اسے دلیل نہ بنائیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ جل ثناؤہ نے آپ ﷺ کے لیے عورتوں کی جتنی تعداد آپ چاہیں حلال فرما دی، اور یہ کہ جو عورت اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دے آپ اس سے نکاح کر سکتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأحزاب: 50]۔ لہٰذا کسی کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار سے زیادہ بیویاں جمع کیں، بغیر مہر کے ایک عورت سے نکاح کیا، مالِ غنیمت میں سے صفی (منتخب حصہ) لیا اور آپ کے لیے خمس کا خمس تھا، تو یہ آپ کے بعد مومنوں اور ان کے حکمرانوں کے لیے بھی اسی طرح ہوگا جیسے آپ کے لیے تھا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول ﷺ کی زبان پر واضح فرما دیا ہے کہ یہ ان کے بجائے صرف آپ ﷺ کے لیے تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر فرض کیا کہ آپ اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیں، تو کسی کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ مجھ پر بھی اپنی بیوی کو اسی طرح اختیار دینا لازم ہے جیسے اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر فرض کیا۔ نبی ﷺ کے اس فرمان کا، اگر آپ نے فرمایا ہو: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہ پکڑیں“، یہی معنی ہے۔
شیخ (امام بیہقی) نے فرمایا: امام شافعی رحمہ اللہ نے اس روایت کی صحت میں توقف کیا اور فرمایا: ”اگر آپ نے فرمایا ہو“، کیونکہ یہ حدیث مرسل ہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہیں جو اس کی تائید کرے، البتہ اگر اسے اس معنی پر محمول کیا جائے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے بیان کیا تو یہ واضح اور اصولوں کے موافق ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تو آپ ﷺ نے اپنے حکم کی اتباع اور اپنی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کا حکم دیا، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنی مخلوق پر یہ فرض کیا ہے، اور لوگوں کے پاس اس میں سے صرف وہی ہے جسے انہوں نے اللہ سے، پھر رسول اللہ ﷺ سے، پھر آپ ﷺ کی رہنمائی سے تھاما ہے۔ لیکن آپ ﷺ کا یہ فرمان، اگر آپ نے فرمایا ہو: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہ پکڑیں“، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی ﷺ چونکہ پیشوائی کے مقام پر تھے، اس لیے آپ ﷺ کی کچھ خصوصیات تھیں جن میں آپ کے لیے وہ چیزیں مباح کی گئیں جو لوگوں کے لیے مباح نہیں کی گئیں، اور آپ پر وہ چیزیں حرام کی گئیں جو لوگوں پر حرام نہیں کی گئیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ مجھ پر اس چیز کی حجت نہ پکڑیں جو ان کے بجائے صرف میرے لیے یا صرف مجھ پر ہے؛ اگر وہ ان چیزوں میں سے ہو جو ان کے بجائے صرف مجھ پر یا میرے لیے ہیں تو وہ اسے دلیل نہ بنائیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ جل ثناؤہ نے آپ ﷺ کے لیے عورتوں کی جتنی تعداد آپ چاہیں حلال فرما دی، اور یہ کہ جو عورت اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دے آپ اس سے نکاح کر سکتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأحزاب: 50]۔ لہٰذا کسی کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار سے زیادہ بیویاں جمع کیں، بغیر مہر کے ایک عورت سے نکاح کیا، مالِ غنیمت میں سے صفی (منتخب حصہ) لیا اور آپ کے لیے خمس کا خمس تھا، تو یہ آپ کے بعد مومنوں اور ان کے حکمرانوں کے لیے بھی اسی طرح ہوگا جیسے آپ کے لیے تھا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول ﷺ کی زبان پر واضح فرما دیا ہے کہ یہ ان کے بجائے صرف آپ ﷺ کے لیے تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر فرض کیا کہ آپ اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیں، تو کسی کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ مجھ پر بھی اپنی بیوی کو اسی طرح اختیار دینا لازم ہے جیسے اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر فرض کیا۔ نبی ﷺ کے اس فرمان کا، اگر آپ نے فرمایا ہو: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہ پکڑیں“، یہی معنی ہے۔
شیخ (امام بیہقی) نے فرمایا: امام شافعی رحمہ اللہ نے اس روایت کی صحت میں توقف کیا اور فرمایا: ”اگر آپ نے فرمایا ہو“، کیونکہ یہ حدیث مرسل ہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہیں جو اس کی تائید کرے، البتہ اگر اسے اس معنی پر محمول کیا جائے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے بیان کیا تو یہ واضح اور اصولوں کے موافق ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: حَرَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ يَوْمَ خَيْبَرَ مِنْهَا الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ وَغَيْرُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوشِكُ أَنْ يَقْعُدَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثِي، فَيَقُولُ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَلَالًا اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَرَامًا حَرَّمْنَاهُ، وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ.
حافظ ثناء اللہ
خیبر والے دن نبی ﷺ نے کچھ چیزیں حرام قرار دیں، ان میں گھریلو گدھا وغیرہ بھی تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہے کہ آدمی اپنے تکیے پر بیٹھے گا، حدیث بیان کرنے والا میری حدیث بیان کرے گا اور وہ کہے گا کہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان کتاب اللہ (کافی) ہے، ہم جو کتاب اللہ میں پائیں گے جو وہ حلال کرے گا ہم اس کو حلال سمجھیں گے اور جس کو وہ حرام کہے گا ہم اس کو حرام سمجھیں گے، اور نبی ﷺ نے بھی حرام کیا چیزوں کو جس طرح اللہ پاک نے حرام قرار دیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا تَرَكْتُ شَيْئًا مِمَّا أَمَرَكُمُ اللهُ بِهِ، إِلَّا وَقَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَا تَرَكْتُ شَيْئًا مِمَّا نَهَاكُمُ اللهُ عَنْهُ، إِلَّا وَقَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَمَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ وَحْيٌ فَقَدْ فَرَضَ اللهُ فِي الْوَحْيِ اتِّبَاعَ سُنَّتِهِ فَمَنْ قَبِلَ عَنْهُ فَإِنَّمَا قَبِلَ بِفَرْضِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہو مگر میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا ہے، اور میں نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں منع کیا ہو مگر میں نے تمہیں اس سے منع کر دیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پس جس معاملے میں وحی نہیں تھی، اس میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ ﷺ کی سنت کی اتباع فرض کر دی ہے، لہٰذا جس نے آپ ﷺ سے (کوئی حکم) قبول کیا اس نے اللہ عزوجل کے فرض کی بنا پر ہی قبول کیا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پس جس معاملے میں وحی نہیں تھی، اس میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ ﷺ کی سنت کی اتباع فرض کر دی ہے، لہٰذا جس نے آپ ﷺ سے (کوئی حکم) قبول کیا اس نے اللہ عزوجل کے فرض کی بنا پر ہی قبول کیا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔