کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نکاح کی ترغیب اور اس کے علاوہ دیگر امور کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: نکاح کی رغبت دلانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَا الْحَفَدَةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَلَدُ الرَّجُلِ قَالَ: لَا وَلَكِنَّهُ الْأَخْتَانُ ".
حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش اسدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”«حَفَدَة» کیا ہوتا ہے؟“ میں نے کہا: ”آدمی کی اولاد۔“ تو انہوں نے کہا: ”نہیں، بلکہ اس سے مراد سسرالی رشتے دار (داماد) ہیں۔“
وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَاصِمٍ، فَقَالَ لَا، هُمُ الْأَصْهَارُ، أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
اسے ابن عیینہ نے عاصم سے روایت کیا تو اس میں کہا: ”نہیں، وہ سسرالی رشتے دار ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَا نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا تُذَكِّرُكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا کہ منیٰ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور ان سے باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا ہم آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے نہ کرا دیں، شاید وہ آپ کو آپ کے گزرے ہوئے زمانے کی کچھ باتیں یاد دلا دے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ یہ کہتے ہیں تو ہم کو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! جو کوئی تم میں شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرے، بیشک یہ نظروں کو نیچا کرنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے، اور جو کوئی شادی کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، بیشک روزے اس کے لیے ڈھال ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللهِ وَعِنْدَهُ عَلْقَمَةُ، وَالْأَسْوَدُ، فَحَدَّثَ بِحَدِيثٍ لَا أَرَاهُ حَدَّثَ بِهِ إِلَّا مِنْ أَجْلِي، كُنْتُ أَحْدَثَ الْقَوْمِ سِنًّا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لَا نَجِدُ شَيْئًا، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ "، ⦗١٢٣⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان کے پاس علقمہ اور اسود بھی تھے، تو انہوں نے ایک حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے وہ صرف میری وجہ سے بیان کی، کیونکہ میں لوگوں میں سب سے کم عمر تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نوجوان تھے، ہمارے پاس کچھ نہیں تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہو وہ شادی کرے، کیونکہ یہ نظر کو زیادہ نیچا رکھنے والی اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والی ہے، اور تم میں سے جو شادی کی طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا بِهَا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا، وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّي أَصُومُ الدَّهْرَ، فَلَا أُفْطِرُ وَقَالَ الْآخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ وَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: " أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا، أَمَا إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي، وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین آدمی نبی ﷺ کی بیویوں کے پاس آئے اور وہ آپ ﷺ کی عبادت کے بارے میں سوال کرنے لگے، جب ان کو عبادت کے بارے میں بتایا گیا تو گویا انہوں نے اسے کم سمجھا اور انہوں نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے مقابلے میں کہاں؟ حالانکہ آپ ﷺ کے اگلے پچھلے گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا، دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی نہیں چھوڑوں گا اور تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا، نبی ﷺ ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسے ایسے کہا ہے؟ سن لو! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ متقی ہوں، لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، تو جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَرِيرَتِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ وَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عُثْمَانَ وَحَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ مُخْتَصَرٌ لَيْسَ فِيهِ حِكَايَةُ أَقْوَالِهِمْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے ساتھیوں کا ایک گروہ آیا اور انہوں نے آپ ﷺ کی بیویوں سے آپ ﷺ کی مخفی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ پھر بعض نے کہا: ”میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا“ اور بعض نے کہا: ”میں کبھی گوشت نہیں کھاؤں گا“ اور بعض نے کہا: ”میں بستر پر کبھی نہیں لیٹوں گا“ اور بعض نے کہا: ”میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی نہیں چھوڑوں گا۔“ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں؟ لیکن میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں اور میں نے عورتوں سے شادی بھی کر رکھی ہے۔ جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ طَلْحَةَ ⦗١٢٤⦘ الْأَيَامِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَنَا كَانَ أَكْثَرَنَا نِسَاءً يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”شادی کرو، بیشک ہم میں سے بہتر وہ ہیں جن کی سب سے زیادہ بیویاں تھیں“ یعنی نبی ﷺ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ فِطْرَتِي، فَلْيَسْتَنَّ بِسُنَّتِي، وَمِنْ سُنَّتِي النِّكَاحُ " وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میری فطرت (یعنی میرے طریقے) سے محبت کی اس کو چاہیے کہ وہ ہماری سنت پر چلے اور نکاح کرنا بھی میری سنت ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ " وَهَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نے دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح کی مثل کبھی بھی نہیں دیکھا۔“
یہ روایت مرسل ہے۔
یہ روایت مرسل ہے۔
وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَمْ يَرَوْا لِلْمُتَحَابَّيْنِ فِي اللهِ مِثْلَ التَّزَوُّجِ "، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے دو افراد کے لیے لوگوں نے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى الْهِلَالِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَأَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَا: ثنا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ⦗١٢٥⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا حُبِّبَ إِلِيَّ مِنْ دُنْيَاكُمُ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ " لَفْظُ حَدِيثِ عَلِيٍّ، وَفِي رِوَايَةِ مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حُبِّبَ إِلِيَّ مِنَ الدُّنْيَا "، تَابَعَهُ سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ. وَرَوَى ذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنَ الضُّعَفَاءِ عَنْ ثَابِتٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا میں میرے نزدیک سب سے محبوب چیزیں عورت اور خوشبو ہیں اور نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائی گئی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْإِمَامُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَيْمُونٌ أَبُو الْمُغَلِّسِ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ كَانَ مُوسِرًا لِأَنْ يَنْكِحَ، فَلَمْ يَنْكِحْ فَلَيْسَ مِنَّا "، هَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی نکاح کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اور پھر نکاح نہ کرے تو وہ ہم میں سے نہیں۔“
یہ روایت مرسل ہے۔
یہ روایت مرسل ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللهِ عَوْنُهُمُ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَالنَّاكِحُ يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”تین بندے ایسے ہیں کہ ان کا اللہ پر حق ہے کہ ان کی مدد کرے: اللہ کے رستے میں جہاد کرنے والا، وہ نکاح کرنے والا جو برائی سے بچنے کا ارادہ رکھتا ہو اور وہ مکاتب جو ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّقَفِيُّ الْبَصْرِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا تَكُونُوا كَرَهْبَانِيَّةِ النَّصَارَى "، وَفِي هَذَا أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ فِي أَسَانِيدِهَا ضَعْفٌ وَفِيمَا ذَكَرْنَاهُ غُنْيَةٌ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”شادی کیا کرو، میں قیامت کے دن امتوں پر تمہاری کثرت پر فخر کروں گا اور تم عیسائیوں کی رہبانیت کی طرح نہ ہوجانا۔“
اس بارے میں بہت سی روایات ہیں جن کی سندوں میں ضعف ہے، اور جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ کافی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ حدیث پہنچی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس کے تین بچے فوت ہو جائیں اس کو آگ نہیں چھوئے گی۔“
اس بارے میں بہت سی روایات ہیں جن کی سندوں میں ضعف ہے، اور جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ کافی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ حدیث پہنچی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس کے تین بچے فوت ہو جائیں اس کو آگ نہیں چھوئے گی۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَأَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ⦗١٢٦⦘ كِلَاهُمَا عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَمَسَّهُ النَّارُ، إِلَّا تَحِلَّةُ الْقَسَمِ "، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَيُقَالُ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيُرْفَعُ بِدُعَاءِ وَلَدِهِ مِنْ بَعْدِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا قَوْلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو گئے، اسے آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم حلال کرنے کے لیے۔“
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ لَيَرْفَعُ الْعَبْدَ الدَّرَجَةَ فَيَقُولُ: رَبِّ أَنَّى لِي هَذِهِ الدَّرَجَةُ، فَيَقُولُ: بِدُعَاءِ وَلَدِكَ لَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بندے کا درجہ بلند فرمائے گا، وہ کہے گا: یہ میرے لیے درجات ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ تیری اولاد کی دعا کی وجہ سے ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ الْهَجَنَّعِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَاللهِ إِنِّي لَأُكْرِهُ نَفْسِي عَلَى الْجِمَاعِ؛ رَجَاءَ أَنْ يُخْرِجَ اللهُ مِنِّي نَسَمَةً تُسَبِّحُ اللهَ ".
حافظ ثناء اللہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں اپنے نفس کو جماع پر مجبور کرتا ہوں یہ امید کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے اولاد نکالے گا جو تسبیح کرے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَرَادَ أَنْ لَا يَنْكِحَ، فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ: " تَزَوَّجْ فَإِنْ وُلِدَ لَكَ وَلَدٌ فَعَاشُوا مِنْ بَعْدِكَ دَعَوْا لَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارادہ کیا کہ وہ نکاح نہیں کریں گے تو انہیں حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”تم شادی کیا کرو تاکہ تمہاری اولاد تمہارے بعد تمہارے لیے دعا کرے۔“