السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الدليل على أنه صلى الله عليه وسلم لا يقتدى به فيما خص به ويقتدى به فيما سواه باب: اس بات کی دلیل کہ نبی کریم ﷺ کی ان خصوصیات میں آپ کی اقتدا نہیں کی جائے گی جو آپ کے ساتھ خاص ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر امور میں آپ کی اقتدا کی جائے گی
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، بِإِسْنَادِهِ يَعْنِي عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُمْسِكَنَّ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ وَإِنِّي " لَا أُحِلُّ لَهُمْ، إِلَّا مَا أَحَلَّ اللهُ لَهُمْ، وَلَا أُحَرِّمُ عَلَيْهِمْ، إِلَّا مَا حَرَّمَ اللهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا مُنْقَطِعٌ وَلَوْ ثَبَتَ فَبَيِّنٌ فِيهِ أَنَّهُ عَلَى مَا وَصَفْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى قَالَ: " لَا يُمْسِكَنَّ النَّاسُ عَلَيَّ، وَلَمْ يَقُلْ لَا يُمْسِكُوا عَنِّي بَلْ قَدْ أَمَرَ بِأَنْ يُمْسَكَ عَنْهُ، وَأَمَرَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ بِذَلِكَ.طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت ہرگز نہ پکڑیں، کیونکہ میں ان کے لیے صرف وہی حلال کرتا ہوں جو اللہ نے ان کے لیے حلال کیا ہے اور ان پر صرف وہی حرام کرتا ہوں جو اللہ نے حرام کیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت منقطع ہے، اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو اس میں واضح ہے کہ یہ اسی معنی پر ہے جو میں نے بیان کیا، ان شاء اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہ پکڑیں“، یہ نہیں فرمایا کہ ”مجھ سے (منقول چیزوں کو) نہ پکڑیں“، بلکہ آپ ﷺ نے تو حکم دیا ہے کہ آپ سے (منقول چیزوں کو) مضبوطی سے پکڑا جائے، اور اللہ جل ثناؤہ نے بھی اسی کا حکم دیا ہے۔