حدیث نمبر: 13439
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَمَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَهُ وَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ الْحِجْرِ يُحَذِّرُ الْفِتَنَ وَقَالَ: " إِنِّي وَاللهِ لَا يُمْسِكُ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ إِلَّا أَنِّي " لَا أُحِلُّ إِلَّا مَا أَحَلَّ اللهُ فِي كِتَابِهِ، وَلَا أُحَرِّمُ، إِلَّا مَا حَرَّمَ اللهُ فِي كِتَابِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، (راوی نے) لمبی حدیث ذکر کی۔ پھر راوی نے کہا کہ نبی ﷺ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہے اور حجرے کی ایک طرف بیٹھ گئے اور فتنہ سے ڈراتے تھے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں روکتا لوگوں کو کسی چیز سے مگر میں وہ چیز حلال کرتا ہوں جس کو اللہ پاک نے حلال کیا ہے اور میں نہیں حرام کرتا مگر اس چیز کو جس کو اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حرام کیا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13439
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»