السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الدليل على أنه صلى الله عليه وسلم لا يقتدى به فيما خص به ويقتدى به فيما سواه باب: اس بات کی دلیل کہ نبی کریم ﷺ کی ان خصوصیات میں آپ کی اقتدا نہیں کی جائے گی جو آپ کے ساتھ خاص ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر امور میں آپ کی اقتدا کی جائے گی
قَالَ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللهِ اتَّبَعْنَاهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَقَدْ أَمَرَ بِاتِّبَاعِ مَا أَمَرَ بِهِ، وَاجْتِنَابِ مَا نَهَى عَنْهُ، وَفَرَضَ اللهُ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ عَلَى خَلْقِهِ، وَمَا فِي أَيْدِي النَّاسِ مِنْ هَذَا، إِلَّا مَا تُمْسِكُوا بِهِ عَنِ اللهِ، ثُمَّ عَنِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ دِلَالَتِهِ، وَلَكِنْ قَوْلُهُ: إِنْ كَانَ قَالَهُ لَا يُمْسِكَنَّ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِمَوْضِعِ الْقُدْوَةِ، فَقَدْ كَانَتْ لَهُ خَوَاصُّ أُبِيحَ لَهُ فِيهَا، مَا لَمْ يُبَحْ لِلنَّاسِ، وَحُرِّمَ عَلَيْهِ فِيهَا، مَا لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: لَا يُمْسِكَنَّ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ مِنَ الَّذِي لِي، أَوْ عَلَيَّ دُونَهُمْ، فَإِنْ كَانَ مِمَّا عَلَيَّ وَلِي دُونَهُمْ فَلَا يُمْسِكَنَّ بِهِ، وَذَلِكَ مِثْلُ أَنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَحَلَّ لَهُ مِنْ عَدَدِ النِّسَاءِ مَا شَاءَ، وَأَنْ يَسْتَنْكِحَ الْمَرْأَةَ إِذَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَهُ، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ} [الأحزاب: ٥٠]، فَلَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: قَدْ جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ، وَنَكَحَ امْرَأَةً بِغَيْرِ مَهْرٍ، وَأَخَذَ صَفِيًّا مِنَ الْمَغْنَمِ، وَكَانَ لَهُ خُمْسُ الْخُمُسِ، فَلَا يَكُونُ ذَلِكَ لِلْمُؤْمِنِينَ بَعْدَهُ وَلَا لِوُلَاتِهِمْ كَمَا يَكُونُ لَهُ؛ لِأَنَّ اللهَ قَدْ بَيَّنَ فِي كِتَابِهِ وَعَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٢١⦘ أَنَّ ذَلِكَ لَهُ دُونَهُمْ، وَفَرَضَ اللهُ أَنْ يُخَيِّرَ أَزْوَاجَهُ فِي الْمُقَامِ مَعَهُ وَالْفِرَاقِ فَلَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: عَلَيَّ أَنْ أُخَيِّرَ امْرَأَتِي عَلَى مَا فَرَضَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ قَالَهُ: " لَا يُمْسِكَنَّ عَلَيَّ النَّاسُ بِشَيْءٍ " قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا تَوَقَّفَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي صِحَّةِ الْخَبَرِ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ قَالَهُ لِأَنَّ الْحَدِيثَ مُرْسَلٌ وَلَيْسَ مَعَهُ مَا يُؤَكِّدُهُ إِلَّا أَنْ كَانَ مَحْمُولًا عَلَى مَا قَالَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، فَيَكُونُ وَاضِحًا وَلِلْأُصُولِ مُوَافِقًا.نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیے پر ٹیک لگانے والا ہو اور اس کے پاس میرا کوئی ایسا معاملہ آئے جس کا میں نے حکم دیا ہو یا ایسا معاملہ جس سے میں نے منع کیا ہو، اور وہ کہے کہ میں تو صرف اس کی اتباع کروں گا جو ہم نے کتاب اللہ میں پایا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تو آپ ﷺ نے اپنے حکم کی اتباع اور اپنی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کا حکم دیا، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنی مخلوق پر یہ فرض کیا ہے، اور لوگوں کے پاس اس میں سے صرف وہی ہے جسے انہوں نے اللہ سے، پھر رسول اللہ ﷺ سے، پھر آپ ﷺ کی رہنمائی سے تھاما ہے۔ لیکن آپ ﷺ کا یہ فرمان، اگر آپ نے فرمایا ہو: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہ پکڑیں“، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی ﷺ چونکہ پیشوائی کے مقام پر تھے، اس لیے آپ ﷺ کی کچھ خصوصیات تھیں جن میں آپ کے لیے وہ چیزیں مباح کی گئیں جو لوگوں کے لیے مباح نہیں کی گئیں، اور آپ پر وہ چیزیں حرام کی گئیں جو لوگوں پر حرام نہیں کی گئیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ مجھ پر اس چیز کی حجت نہ پکڑیں جو ان کے بجائے صرف میرے لیے یا صرف مجھ پر ہے؛ اگر وہ ان چیزوں میں سے ہو جو ان کے بجائے صرف مجھ پر یا میرے لیے ہیں تو وہ اسے دلیل نہ بنائیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ جل ثناؤہ نے آپ ﷺ کے لیے عورتوں کی جتنی تعداد آپ چاہیں حلال فرما دی، اور یہ کہ جو عورت اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دے آپ اس سے نکاح کر سکتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأحزاب: 50]۔ لہٰذا کسی کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار سے زیادہ بیویاں جمع کیں، بغیر مہر کے ایک عورت سے نکاح کیا، مالِ غنیمت میں سے صفی (منتخب حصہ) لیا اور آپ کے لیے خمس کا خمس تھا، تو یہ آپ کے بعد مومنوں اور ان کے حکمرانوں کے لیے بھی اسی طرح ہوگا جیسے آپ کے لیے تھا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول ﷺ کی زبان پر واضح فرما دیا ہے کہ یہ ان کے بجائے صرف آپ ﷺ کے لیے تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر فرض کیا کہ آپ اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیں، تو کسی کے لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ مجھ پر بھی اپنی بیوی کو اسی طرح اختیار دینا لازم ہے جیسے اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر فرض کیا۔ نبی ﷺ کے اس فرمان کا، اگر آپ نے فرمایا ہو: ”لوگ مجھ پر کسی چیز کی حجت نہ پکڑیں“، یہی معنی ہے۔
شیخ (امام بیہقی) نے فرمایا: امام شافعی رحمہ اللہ نے اس روایت کی صحت میں توقف کیا اور فرمایا: ”اگر آپ نے فرمایا ہو“، کیونکہ یہ حدیث مرسل ہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہیں جو اس کی تائید کرے، البتہ اگر اسے اس معنی پر محمول کیا جائے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے بیان کیا تو یہ واضح اور اصولوں کے موافق ہے۔