کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات پر استدلال کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی جن خصوصیات کا ذکر اور وصف بیان کیا ان کے علاوہ حادثاتی طور پر بیویوں کے درمیان حلال و حرام کے فیصلے میں آپ کا حلال کسی دوسرے حلال کے مخالف نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 13429
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جِنَازَةَ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " هَذِهِ مَيْمُونَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا، فَلَا تُزَعْزِعُوا، وَلَا تُزَلْزِلُوا ارْفُقُوا؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا " قَالَ عَطَاءٌ: وَالَّتِي لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، هَكَذَا يَقُولُ عَطَاءٌ: إِنَّ الَّتِيَ لَمْ يَقْسِمْ لَهَا صَفِيَّةُ، وَالْأَخْبَارُ الْمَوْصُولَةُ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا سَوْدَةُ، حَيْثُ وَهَبَتْ يَوْمَهَا مِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
عطاء کہتے ہیں کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں گئے، سرف نامی جگہ میں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب ان کی میت کو اٹھاؤ تو تم زیادہ حرکت نہ دو اور نہ ہلاؤ بلکہ نرمی سے لے کر جاؤ، نبی ﷺ کی نو بیویاں تھیں، باری لگاتے آٹھ کی اور ایک کی باری نہ لگاتے تھے۔
عطاء کہتے ہیں کہ جس کی باری نہیں لگاتے تھے وہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ بقیہ موصول شدہ روایات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں، انہوں نے اپنا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کر دیا تھا۔
عطاء کہتے ہیں کہ جس کی باری نہیں لگاتے تھے وہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ بقیہ موصول شدہ روایات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں، انہوں نے اپنا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 13430
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " " أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ " " يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهَا أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِي بَيْتِي، فَقُبِضَ وَأَنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي قَالَتْ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْطَانِيهِ فَقَضِمْتُهُ، ثُمَّ مَضَغْتُهُ، فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَنَّ بِهِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى صَدْرِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اس مرض میں سوال کرتے تھے جس میں آپ ﷺ فوت ہوئے کہ ”میں کل کہاں ہوں گا؟ میں کل کہاں ہوں گا؟“ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارادہ کرتے تھے، یعنی ان کی باری کا، تو آپ ﷺ کی بیویوں نے اجازت دے دی کہ آپ ﷺ جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں، تو آپ ﷺ کی وفات بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اس دن فوت ہوئے جب باری میری تھی، میرے گھر میں آپ ﷺ کو فوت کیا گیا اور آپ ﷺ کا سر مبارک میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھا اور آپ ﷺ کی تھوک اور میری تھوک بھی مل گئی۔ فرماتی ہیں کہ عبدالرحمن بن ابوبکر داخل ہوئے اور ان کے پاس مسواک تھی جو وہ کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا، میں نے کہا: اے عبدالرحمن! مجھے مسواک دینا، میں نے اس کو نرم کیا، پھر اس کو چبایا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دے دیا، آپ ﷺ نے مسواک کیا، اس حال میں کہ آپ ﷺ میرے سینے سے ٹیک لگانے والے تھے۔
حدیث نمبر: 13431
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُنَا فِي يَوْمِ إِحْدَانَا بَعْدَمَا أُنْزِلَتْ {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} [الأحزاب: ٥١]، فَقَالَتْ لَهَا مُعَاذَةُ: فَمَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَ؟ قَالَتْ: أَقُولُ إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلِيَّ لَمْ أُوثِرْ عَلَى نَفْسِي أَحَدًا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سُرَيْجِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ. ⦗١١٨⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَهُنَّ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اس آیت ﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ﴾ [سورة الأحزاب: 51] کے نازل ہونے کے بعد اجازت دی، معاذہ نے کہا کہ پھر تم نے رسول اللہ ﷺ کو کیا کہا جب آپ ﷺ نے تمہیں اجازت دی؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کے علاوہ میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہیں دیتی۔
حدیث نمبر: 13432
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَهَذَا لِكُلِّ مَنْ لَهُ أَزْوَاجٌ مِنَ النَّاسِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: وَمِنْ ذَلِكَ أَنَّهُ أَرَادَ فِرَاقَ سَوْدَةَ، فَقَالَتْ: لَا تُفَارِقْنِي وَدَعْنِي حَتَّى يَحْشُرَنِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَزْوَاجِكَ، وَأَنَا أَهَبُ يَوْمِي وَلَيْلَتِي لِأُخْتِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے، جس بیوی کا قرعہ نکل آتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔
حدیث نمبر: 13433
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً فِي مِسْلَاخِهَا مِثْلَ سَوْدَةَ مِنِ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَّةٌ، فَلَمَّا كَبِرَتْ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مُخْتَصَرًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو مضبوط جسم والی نہیں دیکھا، جس میں تیزی ہو۔ جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اپنی باری عائشہ کو دیتی ہوں“ تو اللہ کے نبی ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے دو دن مقرر کرتے، ایک ان کا اپنا اور ایک سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا۔
حدیث نمبر: 13434
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُكْثِهِ عِنْدَنَا، وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا، فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ، حَتَّى يَبْلُغَ الَّذِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَا، وَلَقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ يَوْمِي لِعَائِشَةَ، فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا قَالَ: تَقُولُ فِي ذَلِكَ أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى وَفِي أَشْبَاهِهَا، أَرَاهُ قَالَ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا} [النساء: ١٢٨] الْآيَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اے میری بھتیجی! نبی ﷺ تقسیم میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور بہت کم یہ بات ہوتی کہ آپ ﷺ تمام بیویوں کے پاس اکٹھا چلے جاتے اور ہر عورت کے قریب جاتے بغیر چھونے کے یہاں تک کہ وہ دن آجاتا، جس دن اس کی باری ہوتی تو آپ ﷺ اس کے پاس رات گزارتے۔ البتہ جب سودہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہوگئیں اور انہوں نے سمجھا کہ آپ ﷺ ان سے علیحدہ ہوجائیں گے تو انہوں نے کہا کہ میری باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیں تو آپ ﷺ نے ان کی یہ بات قبول کر لی۔
حدیث نمبر: 13435
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗١١٩⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَلَّقَ سَوْدَةَ، فَلَمَّا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ أَمْسَكَتْ بِثَوْبِهِ، فَقَالَتْ: مَالِي فِي الرِّجَالِ مِنْ حَاجَةٍ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُحْشَرَ فِي أَزْوَاجِكَ قَالَ: فَرَجَعَهَا وَجَعَلَ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَكَانَ يَقْسِمُ لَهَا بِيَوْمِهَا وَيَوْمِ سَوْدَةَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ فَعَلَتِ ابْنَةُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ شَبِيهًا بِهَذَا حِينَ أَرَادَ زَوْجُهَا طَلَاقَهَا.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے سودہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، جب آپ ﷺ نماز کے لیے نکلے تو انہوں نے آپ ﷺ کو کپڑے سے پکڑ لیا، انہوں نے کہا: ”مجھے کسی آدمی کی ضرورت نہیں ہے، میں چاہتی ہوں کہ آپ ﷺ کی بیوی بن کر اٹھوں۔“ آپ ﷺ نے ان سے رجوع کر لیا اور ان کی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے مقرر کر دی، آپ ﷺ نے ان کے لیے دو دن تقسیم کیے، ایک دن ان کا اور ایک سودہ رضی اللہ عنہا کا۔
حدیث نمبر: 13436
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: كَانَتِ ابْنَةُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ عِنْدَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَكَرِهَ مِنْهَا إِمَّا كِبَرًا وَإِمَّا غَيْرَ ذَلِكَ، فَأَرَادَ طَلَاقَهَا، فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي وَاقْسِمْ لِي مَا شِئْتَ، فَاصْطَلَحَا عَلَى صُلْحٍ فَجَرَتِ السُّنَّةُ بِذَلِكَ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے انہیں بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے ناپسند کیا تو انہیں طلاق دینے کا ارادہ کیا۔ اس نے کہا: مجھے طلاق مت دیجیے اور میرے لیے جب چاہیے تقسیم فرما لیجیے۔ پھر آپ دونوں نے صلح کر لی، پھر یہ سنت جاری ہو گئی اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [سورة النساء: 128]۔
حدیث نمبر: 13437
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ " هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَاعِلٌ مَاذَا؟ " قَالَتْ: تَنْكِحُهَا قَالَ: " أُخْتُكِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: " أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ: " فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي " قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَوَاللهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: " ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: " فَوَاللهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي؛ إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ "، أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ، وَالزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (میں نے عرض کیا): ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ ہماری بہن بنتِ ابوسفیان کا ارادہ رکھتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا مطلب؟“ انہوں نے عرض کیا: ”کیا آپ ان سے شادی کریں گے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تیری بہن ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو پسند کرتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں، میں خود غرض نہیں ہوں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میری بہن شادی کرے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ میں نے عرض کیا: ”مجھے پتا چلا ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے شادی کرنے والے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوسلمہ کی بیٹی؟“ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قسم بخدا! اگر وہ میری پرورش میں میری گود میں نہ ہوتی تو وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اس کے باپ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، میرے پاس اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے شادی کے پیغام نہ بھیجا کرو۔“
حدیث نمبر: 13438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَكَ تَتُوقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ: " وَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ " قَالَ: قُلْنَا: نَعَمِ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ: فَقَالَ: " فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي هِيَ ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ قریش میں زیادہ عمدگی پاتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں، حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، میرے لیے حلال نہیں۔“