السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الدليل على أنه صلى الله عليه وسلم لا يقتدى به فيما خص به ويقتدى به فيما سواه باب: اس بات کی دلیل کہ نبی کریم ﷺ کی ان خصوصیات میں آپ کی اقتدا نہیں کی جائے گی جو آپ کے ساتھ خاص ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر امور میں آپ کی اقتدا کی جائے گی
حدیث نمبر: 13442
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: حَرَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ يَوْمَ خَيْبَرَ مِنْهَا الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ وَغَيْرُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوشِكُ أَنْ يَقْعُدَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثِي، فَيَقُولُ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَلَالًا اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَرَامًا حَرَّمْنَاهُ، وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ.حافظ ثناء اللہ
خیبر والے دن نبی ﷺ نے کچھ چیزیں حرام قرار دیں، ان میں گھریلو گدھا وغیرہ بھی تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہے کہ آدمی اپنے تکیے پر بیٹھے گا، حدیث بیان کرنے والا میری حدیث بیان کرے گا اور وہ کہے گا کہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان کتاب اللہ (کافی) ہے، ہم جو کتاب اللہ میں پائیں گے جو وہ حلال کرے گا ہم اس کو حلال سمجھیں گے اور جس کو وہ حرام کہے گا ہم اس کو حرام سمجھیں گے، اور نبی ﷺ نے بھی حرام کیا چیزوں کو جس طرح اللہ پاک نے حرام قرار دیا۔“