السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوديعة— امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان
باب: ما جاء في الترغيب في أداء الأمانات باب: امانتیں ادا کرنے کی ترغیب کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12690
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَلَّمَا خَطَبَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کم ہی ایسا ہوا ہوگا کہ ہمیں نبی ﷺ نے خطبہ دیا ہو اور یہ نہ کہا ہو: ”جو امانت کا خیال نہ کرے اس کا ایمان نہیں ہے اور جو عہد کی پاسداری نہ کرے اس کا دین نہیں ہے۔“