السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوديعة— امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان
باب: ما جاء في الترغيب في أداء الأمانات باب: امانتیں ادا کرنے کی ترغیب کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللهِ يُكَفِّرُ كُلَّ ذَنْبٍ، إِلَّا الْأَمَانَةَ، يُؤْتَى بِصَاحِبِهَا وَإِنْ كَانَ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَيُقَالُ لَهُ: أَدِّ أَمَانَتَكَ، فَيَقُولُ: رَبِّ، ذَهَبَتِ الدُّنْيَا فَمِنْ أَيْنَ أُؤَدِّيهَا؟ فَيَقُولُ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى الْهَاوِيَةِ، حَتَّى إِذَا أُتِيَ بِهِ إِلَى قَرَارِ الْهَاوِيَةِ مُثِّلَ لَهُ أَمَانَتُهُ كَيَوْمِ دُفِعَتْ إِلَيْهِ، فَيَحْمِلُهَا عَلَى رَقَبَتِهِ يَصْعَدُ بِهَا فِي النَّارِ حَتَّى إِذَا رَأَى أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا هَوَتْ وَهَوَى فِي إِثْرِهَا أَبَدَ الْآبِدِينَ، وَقَرَأَ عَبْدُ اللهِ {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا} [النساء: ٥٨] ".حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ کے راستے میں قتل ہو جانا ہر گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے، سوائے امانت کے۔ امانت والے کو لایا جائے گا، اگرچہ وہ اللہ کے راستے میں قتل کیا گیا ہو، تو اسے کہا جائے گا: ’اپنی امانت ادا کرو۔‘ وہ کہے گا: ’اے میرے رب! دنیا ختم ہو گئی، اب کہاں سے ادا کروں؟‘ اللہ فرمائے گا: ’اسے ہاویہ کی طرف لے جاؤ۔‘ یہاں تک کہ جب اسے ہاویہ کی تہہ میں لایا جائے گا تو اس کی امانت اسی طرح اس کے سامنے لائی جائے گی جیسے اس دن تھی جب اس کے سپرد کی گئی تھی، وہ اسے اپنی گردن پر اٹھا کر آگ میں اوپر چڑھے گا، یہاں تک کہ جب وہ سمجھے گا کہ وہ اس سے نکل آیا ہے تو وہ (امانت) گر پڑے گی اور وہ بھی اس کے پیچھے گر جائے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔“ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ [سورة النساء: 58]۔