السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوديعة— امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان
باب: ما جاء في الترغيب في أداء الأمانات باب: امانتیں ادا کرنے کی ترغیب کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12693
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دِلَافٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا تَنْظُرُوا إِلَى صَلَاةِ أَحَدٍ، وَلَا إِلَى صِيَامِهِ، وَلَكِنِ انْظُرُوا إِلَى مَنْ إِذَا حَدَّثَ صَدَقَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ أَدَّى، وَإِذَا أَشْفَى وَرِعَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی کی نماز اور روزہ کی طرف نہ دیکھو، لیکن دیکھو جب وہ بات کرتا ہے تو سچ بولتا ہے، جب امانت دی جاتی ہے تو ادا کرتا ہے اور جب چلتا ہے تو ڈرتا ہے۔