کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امین (جس کے پاس امانت رکھی جائے) پر کوئی تاوان نہیں ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عنْهُ " قَضَى فِي وَدِيعَةٍ كَانَتْ فِي جِرَابٍ فَضَاعَتْ مِنْ خَرْقِ الْجِرَابِ أَنْ لَا ضَمَانَ فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امانت دی گئی اس چیز کے بارے میں جو تھیلے میں تھی اور وہ گر گئی، یہ فیصلہ کیا کہ اس میں کوئی ضمانت نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَلِيًّا وَابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: " لَيْسَ عَلَى مُؤْتَمَنٍ ضَمَانٌ " وَرُوِّينَا عَنْ شُرَيْحٍ: لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَوْدَعِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سیدنا علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: جسے امانت دی جائے وہ ضامن نہیں ہوتا۔
شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس کے پاس امانت رکھی گئی ہو، اگر وہ خیانت کرنے والا نہ ہو تو اس پر ضمانت نہیں ہے۔
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی ضعیف سند کے ساتھ مروی ہے۔
شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس کے پاس امانت رکھی گئی ہو، اگر وہ خیانت کرنے والا نہ ہو تو اس پر ضمانت نہیں ہے۔
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی ضعیف سند کے ساتھ مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا ضَمَانَ عَلَى مُؤْتَمَنٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امانت دیے جانے والے پر ضمانت نہیں ہے۔“
(ب) ”جسے کوئی چیز امانت دی جائے وہ اس کا ضامن نہیں ہوتا۔“
(ب) ”جسے کوئی چیز امانت دی جائے وہ اس کا ضامن نہیں ہوتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اسْتَوْدَعَا امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ مِائَةَ دِينَارٍ عَلَى أَنْ لَا تَدْفَعَهَا إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمَا دُونَ صَاحِبِهِ حَتَّى يَجْتَمِعَا، فَأَتَاهَا أَحَدُهُمَا فَقَالَ: إِنَّ صَاحِبِي تُوُفِّيَ؛ فَادْفَعِي إِلِيَّ الْمَالَ، فَأَبَتْ، فَاخْتَلَفَ إِلَيْهَا ثَلَاثَ سِنِينَ، وَاسْتَشْفَعَ عَلَيْهَا حَتَّى أَعْطَتْهُ، ثُمَّ إِنَّ الْآخَرَ جَاءَ فَقَالَ: أَعْطِينِي الَّذِي لِي، فَذَهَبَ بِهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هَلْ بَيِّنَةٌ؟ " قَالَ: هِيَ بَيِّنَتِي، فَقَالَ: " مَا أَظُنُّكِ إِلَّا ضَامِنَةً "، قَالَتْ: أَسْأَلُكَ يَا أَبَا فُلَانٍ، أَنْ تَرْفَعَنَا إِلَى ابْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَتَوْهُ وَهُوَ يُطَيِّنُ حَوْضًا لَهُ فِي بُسْتَانٍ، وَهُوَ مُتَّزِرٌ بِكِسَاءٍ، فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: " ائْتِنِي بِصَاحِبِكَ وَالِي مَتَاعِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سماک، حنش سے نقل کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے قریش کی ایک عورت کے پاس ایک سو دینار بطورِ امانت رکھے ہوئے تھے اور یہ شرط لگائی کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو نہ دے گی بلکہ جب دونوں جمع ہوں، اسی وقت دے گی۔ ان میں سے ایک آیا اور اس نے کہا: میرا دوست فوت ہو گیا ہے، پس وہ مال مجھے دے دو۔ اس عورت نے انکار کر دیا، یہاں تک کہ اسی اختلاف میں تین سال گزر گئے۔ اس شخص نے سفارش سے وہ مال لے لیا۔ پھر دوسرا آدمی آ گیا، اس نے کہا: میرا مال مجھے دو، پھر وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تیرے پاس کوئی دلیل ہے؟ اس نے کہا: یہ عورت ہی میری دلیل ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تجھے ضامن خیال کرتا ہوں۔ اس عورت نے کہا: اے ابوفلاں! میں آپ سے سوال کرتی ہوں کہ ہمارا معاملہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس لے جائیں، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ باغ میں حوض کے پاس مٹی گوندھ رہے تھے اور کپڑے کو ازار بند کیا ہوا تھا، انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سارا قصہ بیان کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے ساتھی کو میرے پاس لاؤ اور اس کا سامان میرے ذمے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، قَالَا: أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " ضَمَّنَهُ وَدِيعَةً سُرِقَتْ مِنْ بَيْتِ مَالِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں اس امانت کا ضامن ٹھہرایا جو ان کے مال خانے سے چوری ہو گئی تھی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ، أنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ يَحْيَى: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، ⦗٤٧٤⦘ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " غَرَّمَهُ بِضَاعَةً كَانَتْ مَعَهُ فَسُرِقَتْ، أَوْ ضَاعَتْ، فَغَرَّمَهَا إِيَّاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ " قَالَ الشَّيْخُ: يُحْتَمَلُ أَنَّهُ كَانَ فَرَّطَ فِيهَا، فَضَمَّنَهَا إِيَّاهُ بِالتَّفْرِيطِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کسی چیز کا ذمہ دار ٹھہرایا جو اس کے پاس سے چوری ہوگئی تھی یا ضائع ہوگئی تھی۔
شیخ فرماتے ہیں: اس میں احتمال ہے کہ اس نے کوتاہی کی ہوگی، پس اس کو اس کی کوتاہی کی وجہ سے ضامن ٹھہرایا ہو۔
شیخ فرماتے ہیں: اس میں احتمال ہے کہ اس نے کوتاہی کی ہوگی، پس اس کو اس کی کوتاہی کی وجہ سے ضامن ٹھہرایا ہو۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا أَبُو يُونُسَ الْقَوِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: اسْتُودِعْتُ مَالًا، فَوَضَعْتُهُ مَعَ مَالِي، فَهَلَكَ مِنْ بَيْنِ مَالِي، فَرُفِعْتُ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: " إِنَّكَ لَأَمِينٌ فِي نَفْسِي، وَلَكِنْ هَلَكَتْ مِنْ بَيْنِ مَالِكِ "، فَضَمَنْتُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے مال امانتاً دیا گیا، پس میں نے اسے اپنے مال کے ساتھ رکھ دیا، وہ میرے مال کے درمیان سے ہلاک ہو گیا، مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک تو امین ہے لیکن وہ تیرے مال کے درمیان سے ہلاک ہوا ہے۔ چنانچہ میں نے اس کا تاوان ادا کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُودَعُ الْوَدِيعَةَ، فَيُحَرِّكُهَا يَأْخُذُ بَعْضَهَا، قَالَ: كَانَ يَقُولُ: " إِذَا حَرَّكَهَا فَقَدْ ضَمِنَ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں منقول ہے جسے امانت دی جائے وہ اس سے کچھ لے لے، انہوں نے کہا: جب اسے اس نے پھیرا تو وہ ضامن ہے۔