السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوديعة— امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان
باب: ما جاء في الترغيب في أداء الأمانات باب: امانتیں ادا کرنے کی ترغیب کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12694
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا يَغُرَّنَّكَ صَلَاةُ رَجُلٍ، وَلَا صِيَامُهُ، مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ صَلَّى، وَلَكِنْ لَا دِينَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی آدمی کی نماز اور روزہ تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے، جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے، لیکن جو امانت کا خیال نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں ہے۔