حدیث نمبر: 12686
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، الْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْؤُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ". قَالَ: فَسَمِعْتُ هَؤُلَاءِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسَبُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالرَّجُلُ فِي مَالِ ابْنِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " لَفْظُ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا، امام ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آدمی اپنے اہل کے بارے میں ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اسے اس بارے میں پوچھا جائے گا اور خادم اپنے آقا کے مال کے بارے میں ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا اور میرے خیال میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اپنے بیٹے کے مال کا بھی ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور تم میں سے ہر ایک اپنی ذمہ داری کے بارے میں جوابدہ ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12686
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2409۔ مسلم 1829»