السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوديعة— امانت رکھنے اور رکھانے کا بیان
باب: ما جاء في الترغيب في أداء الأمانات باب: امانتیں ادا کرنے کی ترغیب کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12696
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ الصَّلَاةُ، وَسَيُصَلِّي أَقْوَامٌ لَا دِينَ لَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پہلی چیز جو تم اپنے دین سے گم پاتے ہو وہ امانت ہے اور آخری چیز جو تم گم کردیتے ہو وہ نماز ہے اور عنقریب لوگ نمازیں پڑھیں گے لیکن ان کا دین نہ ہوگا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی ہجرت کے بارے میں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مکہ میں رہیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی امانتوں کو واپس کریں جو لوگوں کی آپ ﷺ کے پاس تھیں۔