کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: غلام آزاد کرنے وغیرہ کی وصیت کا بیان جب ایک تہائی مال ان کے لیے ناکافی ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلُوسَا الْأَسَدْآبَاذِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: " مَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ يُبْدَأَ بِالْعَتَاقَةِ فِي الْوَصِيَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”سنت گزر چکی ہے کہ غلام آزاد کرنے سے وصیت کی ابتدا کی جائے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ بِوَصَايَا وََبِعَتَاقَةٍ يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب آدمی وصیت کرے اور غلام آزاد کرے تو غلام آزاد کرنے سے ابتدا کی جائے گی۔
وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، مِثْلَ ذَلِكَ: يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح منقول ہے کہ ”غلام آزاد کرنے سے ابتدا کی جائے گی۔“
وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: " يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ قَبْلَ الْوَصَايَا ".
حافظ ثناء اللہ
شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں: وصیت سے پہلے غلام آزاد کرنے سے ابتدا کی جائے گی۔
وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ غلام آزاد کرنے سے ابتدا کی جائے گی۔
وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ غلام آزاد کرنے سے ابتدا کی جائے گی۔
وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: " إِذَا أَوْصَى بِوَصَايَا وَبِعَتَاقَةٍ فَبِالْحِصَصِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب کوئی وصیتیں کرے اور غلام آزاد کرے تو حصوں کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔
وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، وَمُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ سِيرِينَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے ابن سیرین رحمہ اللہ کے قول کی طرح منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا كَانَتْ وَصِيَّةٌ وَعَتَاقَةٌ تَحَاصُّوا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب وصیت ہو اور غلام ہو تو حصے کر دو۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ فِي الْوَصِيَّةِ يَكُونُ فِيهَا الْعِتْقُ فَتَزِيدُ عَلَى الثُّلُثِ، قَالَ: " الثُّلُثُ بَيْنَهُمْ بِالْحِصَصِ ".
حافظ ثناء اللہ
ایوب رحمہ اللہ، محمد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں فرمایا: جس میں آزادی ہو وہ ثلث سے زائد ہو کہ ثلث ان میں حصوں کے ساتھ ہوگا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: بِالْحِصَصِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: حصوں کے ساتھ۔