کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: بیمار شخص کے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 12614
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: " كَانَتِ ابْنَةُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَزَوَّجَهَا، فَحُدِّثَ أَنَّهَا عَاقِرٌ لَا تَلِدُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا، فَمَكَثَتْ حَيَاةَ عُمَرَ وَبَعْضَ خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ لِتُشْرِكَ نِسَاءَهُ فِي الْمِيرَاثِ، وَكَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قَرَابَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حفص بن مغیرہ کی بیٹی عبداللہ بن ابی ربیعہ کے پاس تھی۔ اس نے اسے طلاق دے دی، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے شادی کر لی، آپ کو بتایا گیا کہ وہ بانجھ ہے، اولاد کے قابل نہیں، آپ نے مجامعت سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ٹھہری رہی اور کچھ زمانہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بھی، پھر اس نے عبداللہ بن ربیعہ سے شادی کر لی، تاکہ وراثت میں اس کی بیویوں کے ساتھ حق دار بن جائے اور ان دونوں میں رشتہ داری بھی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوصايا / حدیث: 12614
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12615
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يَقُولُ: " أَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ فِي شَكْوَاهُ أَنْ يُخْرِجَ امْرَأَتَهُ مِنْ مِيرَاثِهَا، فَأَبَتْ، فَنَكَحَ عَلَيْهَا ثَلَاثَ نِسْوَةٍ، وَأَصْدَقَهُنَّ أَلْفَ دِينَارٍ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ، فَأَجَازَ ذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ، وَشَرَّكَ بَيْنَهُنَّ فِي الثُّمُنِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَرَى ذَلِكَ صَدَاقَ مِثْلِهِنَّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبَلَغَنِي أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: زَوِّجُونِي؛ لَا أَلْقَى اللهَ وَأَنَا أَعْزَبُ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار نے عکرمہ بن خالد سے سنا، وہ کہتے تھے کہ عبدالرحمن بن ام حکم نے اپنی بیماری میں اپنی بیوی کو وراثت سے نکالنے کا ارادہ کیا، اس نے انکار کر دیا۔ پس عبدالرحمن نے اس کے ساتھ تین اور عورتوں سے نکاح کر لیا اور ان کا حق مہر ہر ایک کے لیے ایک ایک ہزار دینار مقرر کر دیا اور عبدالملک بن مروان نے اس کی اجازت دے دی اور اس (پہلی بیوی) کو ان کے ساتھ ثمن میں شریک کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب ہے ان جیسا حق مہر اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے اپنی وفات والے مرض میں کہا تھا، میری شادی کر دو، میں اللہ سے اس حال میں نہیں ملنا چاہتا کہ میں کنوارا ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوصايا / حدیث: 12615
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الشافعي في الام 4/ 104»