کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کنوؤں کے حریم (آس پاس کی جگہ) کے متعلق جو احکام مروی ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرِيمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا مِنْ جَوَانِبِهَا كُلِّهَا، لِأَعْطَانِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، وَابْنُ السَّبِيلِ أَوَّلُ شَارِبٍ، وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ " ⦗٢٥٧⦘ وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَوْفٍ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَذَكَرَهُ مِنْ قَوْلِهِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کنویں کی متعلقہ حد اس کے ہر جانب چالیس ہاتھ ہے، اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں کے لیے، اور مسافر سب سے پہلے پینے والا ہے اور زائد پانی نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعے گھاس سے روکا جائے۔“
وَقَدْ كَتَبْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ عَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کنویں کی متعلقہ حد اس کے ہر جانب چالیس ہاتھ ہے، اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں کے لیے، اور مسافر سب سے پہلے پینے والا ہے اور زائد پانی نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعے گھاس سے روکا جائے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ " أَنَّ حَرِيمَ الْبِئْرِ الْبَدِيِّ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ ذِرَاعًا نَوَاحِيهَا كُلُّهَا، وَحَرِيمَ الْعَادِيَّةِ خَمْسُونَ ذِرَاعًا نَوَاحِيهَا كُلُّهَا، وَحَرِيمَ بِئْرِ الزَّرْعِ ثَلَاثُمِائَةِ ذِرَاعٍ مِنْ نَوَاحِيهَا كُلِّهَا " قَالَ: وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: وَسَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ: حَرِيمُ الْعُيُونِ خَمْسُمِائَةِ ذِرَاعٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نئے کنویں کی حد پچیس ہاتھ ہے، اس کے ہر جانب اور پرانے کنویں کی حد پچاس ہاتھ ہے، اس کے ہر جانب اور کھیتی والے کنویں کی حد اس کے ہر جانب تین سو ہاتھ ہے۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے لوگوں سے سنا کہ چشموں کی حد پانچ سو ہاتھ ہے۔
وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرِيمُ الْبِئْرِ الْعَادِيَّةِ خَمْسُونَ ذِرَاعًا، وَحَرِيمُ الْبِئْرِ الْبَدِيِّ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ ذِرَاعًا " قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ: وَحَرِيمُ قُلَيْبِ الزَّرْعِ ثَلَاثُمِائَةِ ذِرَاعٍ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ فَذَكَرَهُ. وَرُوِيَ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا مَوْصُولًا، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پرانے کنویں کی حد پچاس ہاتھ ہے اور نئے کنویں کی حد پچیس ہاتھ ہے“ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اپنی طرف سے کہا: کھیتی والے کنویں کی حد تین سو ہاتھ ہے۔
یہ معمر اور ابراہیم بن ابی عبلہ کے طریق سے زہری عن سعید عن ابی ہریرہ مرفوعاً موصولاً بھی روایت کی گئی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
یہ معمر اور ابراہیم بن ابی عبلہ کے طریق سے زہری عن سعید عن ابی ہریرہ مرفوعاً موصولاً بھی روایت کی گئی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " حَرِيمُ الْبِئْرِ خَمْسُونَ ذِرَاعًا، وَحَرِيمُ الْعَيْنِ مِائَتَا ذِرَاعٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”کنویں کی حد پچاس ہاتھ ہے اور چشمے کی حد دو سو ہاتھ ہے۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الشَّامِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: شَهِدْتُ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ " قَضَى فِي حَرِيمِ الْبِئْرِ الْعَادِيَّةِ خَمْسِينَ ذِرَاعًا، وَفِي الْبَدِيِّ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ ذِرَاعًا ".
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے پرانے کنویں کے لیے پچاس ہاتھ حد کا فیصلہ کیا ہے اور نئے کنویں کے لیے پچیس ہاتھ حد کا فیصلہ کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ جَعَلَ لِلزَّرْعِ حُرْمَةً غَلْوَةً بِسَهْمٍ " ⦗٢٥٨⦘ قَالَ يَحْيَى: قَالُوا: وَالْغَلْوَةُ ما بَيْنَ ثَلَاثِمِائَةِ ذِرَاعٍ وَخَمْسِينَ إِلَى أَرْبَعِمِائَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کھیتی کی حد مقرر کی ہے تیر گرنے کی سی۔“ یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے بیان کیا: «الْغَلْوَةُ» تین سو پچاس ہاتھ سے چار سو ہاتھ تک کے درمیان کو کہتے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي الْمَرَاسِيلِ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ح قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَرَأْتُهُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَضَارُّوا فِي الْحَفْرِ " زَادَ سَعِيدٌ: وَذَلِكَ أَنْ يَحْفِرَ الرَّجُلُ إِلَى جَنْبِ الرَّجُلِ لِيَذْهَبَ بِمَائِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو قلابہ رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم چوڑے کنویں یا چوڑی کھدائی کی وجہ سے کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ۔“
سعید رحمہ اللہ نے یہ زیادہ کیا کہ آدمی دوسرے آدمی کی طرف کھدائی کرے تاکہ اس کا پانی لے جائے۔
سعید رحمہ اللہ نے یہ زیادہ کیا کہ آدمی دوسرے آدمی کی طرف کھدائی کرے تاکہ اس کا پانی لے جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ سَعْدٍ الْكَاتِبِ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا حِمَى إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: ثُلَّةِ الْبِئْرِ، وَطِوَلِ الْفَرَسِ، وَحَلْقَةِ الْقَوْمِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت بلال عبسی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین چیزیں چراگاہ ہیں: کنویں کا پانی، گھوڑوں کا اصطبل اور لوگوں کا حلقہ۔“