السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما جاء في حريم الآبار باب: کنوؤں کے حریم (آس پاس کی جگہ) کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 11872
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الشَّامِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: شَهِدْتُ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ " قَضَى فِي حَرِيمِ الْبِئْرِ الْعَادِيَّةِ خَمْسِينَ ذِرَاعًا، وَفِي الْبَدِيِّ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ ذِرَاعًا ".حافظ ثناء اللہ
حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے پرانے کنویں کے لیے پچاس ہاتھ حد کا فیصلہ کیا ہے اور نئے کنویں کے لیے پچیس ہاتھ حد کا فیصلہ کیا ہے۔