السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما جاء في حريم الآبار باب: کنوؤں کے حریم (آس پاس کی جگہ) کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 11873
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ جَعَلَ لِلزَّرْعِ حُرْمَةً غَلْوَةً بِسَهْمٍ " ⦗٢٥٨⦘ قَالَ يَحْيَى: قَالُوا: وَالْغَلْوَةُ ما بَيْنَ ثَلَاثِمِائَةِ ذِرَاعٍ وَخَمْسِينَ إِلَى أَرْبَعِمِائَةٍ.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کھیتی کی حد مقرر کی ہے تیر گرنے کی سی۔“ یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے بیان کیا: «الْغَلْوَةُ» تین سو ہاتھ کے درمیان کو اور پچاس سے چار سو تک کو کہتے ہیں۔