السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما جاء في حريم الآبار باب: کنوؤں کے حریم (آس پاس کی جگہ) کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 11867
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرِيمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا مِنْ جَوَانِبِهَا كُلِّهَا، لِأَعْطَانِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، وَابْنُ السَّبِيلِ أَوَّلُ شَارِبٍ، وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ " ⦗٢٥٧⦘ وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَوْفٍ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَذَكَرَهُ مِنْ قَوْلِهِ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کنویں کی متعلقہ حد اس کے ہر جانب چالیس ہاتھ ہے، اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں کے لیے، اور مسافر سب سے پہلے پینے والا ہے اور زائد پانی نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعے گھاس سے روکا جائے۔“