السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما جاء في حريم الآبار باب: کنوؤں کے حریم (آس پاس کی جگہ) کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 11868
وَقَدْ كَتَبْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ عَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کنویں کی متعلقہ حد چالیس ہاتھ ہے، اس کے اردگرد اونٹوں، بکریوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ سب سے پہلے پینا ہے اور زائد پانی نہ روکا جائے تاکہ گھاس اگنی رک نہ جائے۔“