کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کھجور کا درخت بنجر زمین میں لگایا جائے، یا کسی شخص کا کھجور کا درخت کسی دوسرے کے کھجوروں کے درمیان ہو اور وہ دونوں اس کے حریم (ارد گرد کی جگہ) کے بارے میں اختلاف کریں
حدیث نمبر: 11864
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " اخْتَصَمَ رَجُلَانِ فِي نَخْلَةٍ، فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرِيدَةً مِنْ جَرِيدِهَا فَذَرَعَهَا فَوَجَدَهَا خَمْسًا، فَجَعَلَهَا حَرِيمَهَا " قَالَ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ: وَأَخْبَرَنِيهِ ابْنُ أَبِي طُوَالَةَ أَنَّهُ قَالَ: وَجَدَهَا سَبْعًا..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی باغ کا جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے انہیں ایک پرچہ جاری کر دیا، اس نے کھیتی کی تو اس کو پانچ ہاتھ پایا، پھر اس کو متعلقہ احاطہ مقرر کر دیا۔
حدیث نمبر: 11865
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا ابْنُ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، وَعَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَذَكَرَهُ فِي حَدِيثِ عَمْرٍو، فَوَجَدَهُ خَمْسَةَ أَذْرُعٍ، وَقَالَ أَبُو طُوَالَةَ: سَبْعَةَ أَذْرُعٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایک روایت کے مطابق پانچ ہاتھ، دوسری روایت کے مطابق سات ہاتھ۔
حدیث نمبر: 11866
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى فِي النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ لِرَجُلٍ فِي نَخْلٍ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ، فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ لِأُولَئِكَ مِنَ الْأَرْضِ مَبْلَغَ جَرِيدِهَا " وَفِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ بِإِسْنَادِهِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرِيمِ النَّخْلِ طُولَ عَسِيبِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک باغ میں، دو باغوں میں اور تین باغوں میں فیصلہ کیا ایک آدمی کے لیے تو وہ (لوگ) اس کے حقوق میں اختلاف کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”ہر کھجور سے اس کی ٹہنی کے پھل کے برابر زمین اس کے لیے ہو گی۔“
(ب) مراسیلِ ابو داؤد میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”نخلستان کی دیوار میں ان کی ٹہنیوں کی لمبائی کے مطابق“ فیصلہ کیا۔
(ب) مراسیلِ ابو داؤد میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”نخلستان کی دیوار میں ان کی ٹہنیوں کی لمبائی کے مطابق“ فیصلہ کیا۔