کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کھجور کا درخت بنجر زمین میں لگایا جائے، یا کسی شخص کا کھجور کا درخت کسی دوسرے کے کھجوروں کے درمیان ہو اور وہ دونوں اس کے حریم (ارد گرد کی جگہ) کے بارے میں اختلاف کریں
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " اخْتَصَمَ رَجُلَانِ فِي نَخْلَةٍ، فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرِيدَةً مِنْ جَرِيدِهَا فَذَرَعَهَا فَوَجَدَهَا خَمْسًا، فَجَعَلَهَا حَرِيمَهَا " قَالَ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ: وَأَخْبَرَنِيهِ ابْنُ أَبِي طُوَالَةَ أَنَّهُ قَالَ: وَجَدَهَا سَبْعًا..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے کھجور کے ایک درخت کے بارے میں جھگڑا کیا۔ نبی ﷺ نے اس کی ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی کاٹی اور اس سے ناپا تو اس کو پانچ ہاتھ پایا، پھر اسی کو اس کا احاطہ (حریم) مقرر کر دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا ابْنُ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، وَعَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَذَكَرَهُ فِي حَدِيثِ عَمْرٍو، فَوَجَدَهُ خَمْسَةَ أَذْرُعٍ، وَقَالَ أَبُو طُوَالَةَ: سَبْعَةَ أَذْرُعٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایک روایت کے مطابق پانچ ہاتھ، دوسری روایت کے مطابق سات ہاتھ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى فِي النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ لِرَجُلٍ فِي نَخْلٍ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ، فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ لِأُولَئِكَ مِنَ الْأَرْضِ مَبْلَغَ جَرِيدِهَا " وَفِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ بِإِسْنَادِهِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرِيمِ النَّخْلِ طُولَ عَسِيبِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں فیصلہ کیا جس کے کسی نخلستان میں کھجور کے ایک، دو یا تین درخت ہوں تو وہ (لوگ) ان کے حقوق میں اختلاف کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”ان کے ہر کھجور کے درخت کے لیے اس کی ٹہنیوں کی پہنچ کے برابر زمین ہو گی۔“
(ب) مراسیلِ ابو داؤد میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”کھجور کے درختوں کے احاطہ (حریم) کے بارے میں ان کی ٹہنیوں کی لمبائی کے مطابق“ فیصلہ کیا۔
(ب) مراسیلِ ابو داؤد میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”کھجور کے درختوں کے احاطہ (حریم) کے بارے میں ان کی ٹہنیوں کی لمبائی کے مطابق“ فیصلہ کیا۔