السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما جاء في حريم الآبار باب: کنوؤں کے حریم (آس پاس کی جگہ) کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 11874
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي الْمَرَاسِيلِ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ح قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَرَأْتُهُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَضَارُّوا فِي الْحَفْرِ " زَادَ سَعِيدٌ: وَذَلِكَ أَنْ يَحْفِرَ الرَّجُلُ إِلَى جَنْبِ الرَّجُلِ لِيَذْهَبَ بِمَائِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابو قلابہ رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم چوڑے کنویں یا چوڑی کھدائی کی وجہ سے کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ۔“
سعید رحمہ اللہ نے یہ زیادہ کیا کہ آدمی دوسرے آدمی کی طرف کھدائی کرے تاکہ اس کا پانی لے جائے۔