السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما جاء في توريث نساء المهاجرين خططهن بالمدينة باب: مہاجر خواتین کو مدینہ منورہ میں ان کے الاٹ شدہ مکانات کی وراثت دینے کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 11876
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، أنبأ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ كُلْثُومٍ، عَنْ زَيْنَبَ أَنَّهَا كَانَتْ تَفْلِي رَأْسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَنِسَاءٌ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ وَهُنَّ يَشْتَكِينَ مَنَازِلَهُنَّ أَنَّهَا تَضِيقُ عَلَيْهِنَّ وَيَخْرُجْنَ مِنْهَا، " فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوَرِّثَ دُورَ الْمُهَاجِرِينَ النِّسَاءَ " فَمَاتَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَوَرِثَتْهُ امْرَأَتُهُ دَارًا بِالْمَدِينَةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سر سے جوئیں نکال رہی تھیں تو آپ ﷺ کے پاس سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیوی اور دوسری مہاجر عورتیں آئیں اور وہ اپنے گھروں کی شکایت کرنے لگیں کہ وہ تنگ ہیں اور وہ ان سے نکلنا چاہتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”مہاجرین عورتوں کو گھروں کا وارث بنایا جائے۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے، ان کی بیوی کو مدینہ میں گھر کا وارث بنایا گیا۔