کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان اجناس کا بیان جن میں سود جاری ہونے کے متعلق نص (دلیل) وارد ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ، وَأَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ، قَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْمَعُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا " لَفْظُ حَدِيثِهِمْ سَوَاءٌ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي، أَوْ حَتَّى تَأْتِيَ جَارِيَتِي مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَرَأْتُهُ عَلَى مَالِكٍ صَحِيحًا لَا أَشُكُّ فِيهِ، ثُمَّ طَالَ عَلَيَّ الزَّمَانُ، وَلَمْ أَحْفَظْ حِفْظًا فَشَكَكْتُ فِي جَارِيَتِي أَوْ خَازِنِي وَغَيْرِي يَقُولُ عَنْهُ خَازِنِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَالْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں کہ میں نے سو دینار کے عوض سونا خریدا تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اور ہم نے آپس میں قیمت طے کی یہاں تک کہ انہوں نے مجھ سے خرید لیا اور سونے کو لے کر وہ اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ رہے تھے۔ پھر کہنے لگے: یہ رکھ لو جب تک میرا خزانچی غابہ نامی جگہ سے آ جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ سن رہے تھے، فرمانے لگے: اس سے جدا نہ ہونا، یہاں تک کہ اس سے قیمت وصول کر لو۔ پھر کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے، چاندی چاندی کے، گندم گندم کے، کھجور کھجور کے اور جو جو کے عوض سود ہے ماسوائے نقد لین دین کے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ جب تک میرا خزانچی یا میری لونڈی غابہ نامی جگہ سے واپس آ جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے اس کی صحیح تلاوت کی۔ مجھے شک نہ تھا پھر ایک وقت گزر گیا، مجھے صحیح یاد نہ رہا تو مجھے شک پیدا ہو گیا کہ میرا خزانچی یا میری لونڈی، لیکن میرے علاوہ دوسرے خزانچی کے لفظ ہی بیان کرتے ہیں۔
(ب) عبداللہ بن یوسف، امام مالک رحمہ اللہ سے خزانچی کے لفظ ہی ذکر کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10474
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2065»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ " - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي نَصْرٍ -: " وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ " ⦗٤٥٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ ذَكَرَ عُبَادَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَاهُمَا وَأَوْضَحَ ثُمَّ ذَكَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے بدلے برابر برابر ہی فروخت کرو۔ ایک دوسرے میں کمی زیادتی نہ کرو۔ اسی طرح چاندی کو چاندی کے بدلے برابر برابر ہی لو اور ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور نہ نقد کو ادھار کے عوض فروخت کرو۔“ ابونضر کی روایت میں ہے کہ ”نقد کو ادھار کے عوض فروخت نہ کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10475
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2068»
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ، وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ، وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ " - وَنَقَصَ أَحَدُهُمَا -: " الْمِلْحَ أَوِ التَّمْرَ " - وَزَادَ أَحَدُهُمَا -: " مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى " الرَّجُلُ الْآخَرُ يُقَالُ هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدٍ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض اور نمک نمک کے بدلے فروخت نہ کرو لیکن برابر برابر، ایک جنس جنس کے بدلے، دست بدست نقد خرید و فروخت کرو۔ لیکن سونا چاندی کے عوض اور چاندی سونے کے بدلے، گندم جَو کے عوض اور جو گندم کے عوض اور کھجور نمک کے بدلے اور نمک کھجور کے عوض نقد بنقد جیسے تم چاہو خرید و فروخت کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10476
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ 1587»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَاهُ قَالَا: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ وَمُعَاوِيَةَ إِمَّا فِي بَيْعَةٍ أَوْ كَنِيسَةٍ، قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الصَّرْفِ بِطُولِهِ. وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ مِنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید دونوں فرماتے ہیں کہ عبادہ اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اکٹھے ہونے کی جگہ یہودیوں کا ایک معبد خانہ تھا یا عیسائیوں کا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10477
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَامَ: فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ بُيُوعًا مَا أَدْرِي مَا هِيَ؟ وَإِنَّ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَا يَصْلُحُ نَسَاءً، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدًّا بِمُدٍّ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدًّا بِمُدٍّ يَدًا بِيَدٍ، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَلَا يَصْلُحُ نَسِيئَةً، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، حَتَّى عَدَّ الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى ⦗٤٥٥⦘ قَالَ قَتَادَةُ: وَكَانَ عُبَادَةُ بَدْرِيًّا عَقَبِيًّا أَحَدَ نُقَبَاءِ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ لَا يَخَافَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، كَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَرَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ مَوْصُولًا مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ ”اے لوگو! تم ایسی بیوع کا تذکرہ کرتے ہو کہ میں ان کے متعلق نہیں جانتا، سونا سونے کے عوض، اس کی ڈلی اور جنس وزن میں برابر، دست بدست نقد خرید و فروخت، اور چاندی چاندی کے عوض، اس کی ڈلی اور اصل، نقد دست بدست خرید و فروخت کرو، اور سونا چاندی کے بدلے اور چاندی کا وزن سونے سے زیادہ ہو، نقد دست بدست خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں ہے اور ادھار درست نہیں ہے، گندم گندم کے عوض مَد مَد کے بدلے دست بدست نقد خرید و فروخت، اور جَو جَو کے عوض ایک مَد مَد کے عوض نقد دست بدست خرید و فروخت کرو، اور جَو کو گندم کے عوض فروخت کرنا اور جَو وزن میں زیادہ ہو نقد دست بدست خرید و فروخت کرو، لیکن ادھار درست نہیں ہے اور کھجور کھجور کے عوض، یہاں تک نمک نمک کے بدلے تک شمار کیا، برابر برابر، نقد دست بدست خرید و فروخت اور کاروبار کیا۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ بدری تھے اور انصار کے سرداروں میں سے تھے، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی کہ وہ اللہ کے بارے میں کمی سے خوف نہ کھائیں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10478
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ عْنِ ابْنِ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَالْحَدِيثُ الثَّابِتُ صَحِيحٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
ابوالاشعث صنعانی رحمہ اللہ، وہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کے خطبے کے وقت موجود تھے کہ میں نے ان سے سنا، وہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”سونا سونے کے عوض اس کی ڈلی اور اصل برابر وزن کے ساتھ اور چاندی چاندی کے عوض اس کی ڈلیاں اور جنس برابر وزن کے ساتھ، اور گندم گندم کے، جَو جَو کے، کھجور کھجور کے اور نمک نمک کے بدلے برابر وزن کے ساتھ، جس نے زائد دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا اس نے سود حاصل کیا اور جَو کو گندم کے بدلے دست بدست نقد خریدو فروخت کرنا اور جو زیادہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10479
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1587»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: كُنْتُ بِالشَّامِ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ فَجَاءَ أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: قَالُوا: أَبُو الْأَشْعَثِ، أَبُو الْأَشْعَثِ فَجَلَسَ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْ أَخَانَا حَدِيثَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْنَا غَزْوَةً وَعَلَى النَّاسِ مُعَاوِيَةُ فَغَنِمْنَا غَنَائِمَ كَثِيرَةً وَكَانَ فِيمَا غَنِمْنَا آنِيَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا أَنَّ بَيْعَهَا فِي أَعْطِيَاتِ النَّاسِ، فَسَارَعَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ فَبَلَغَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَامَ، فَقَالَ: " إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ فَمَنْ زَادَ، أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى ". فَرَدَّ النَّاسُ مَا أَخَذُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: " أَلَا مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ قَدْ كُنَّا نَشْهَدُهُ، وَنَصْحَبُهُ وَلَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُ؟ " فَقَامَ عُبَادَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَعَادَ الْقِصَّةَ، ثُمَّ قَالَ: " لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَا من رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ، - أَوْ قَالَ: وَإنْ رَغِمَ مُعَاوِيَةُ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَصْحَبَهُ فِي جُنْدِهِ لَيْلَةً سَوْدَاءَ " قَالَ حَمَّادٌ: هَذَا أَوْ نَحْوُهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ میں شام میں اس مجلس میں تھا جس میں مسلم بن یسار موجود تھے۔ ابوالاشعث آئے تو انھوں نے کہا کہ ابوالاشعث، ابوالاشعث آگئے۔ وہ بیٹھ گئے، میں نے ان سے کہا: اے ہمارے بھائی! آپ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ والی حدیث بیان کریں، فرمانے لگے: ہاں، ہم نے غزوہ کیا اور ہمارے امیر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ہمیں بہت ساری غنیمت حاصل ہوئی اور ہماری حاصل کردہ غنیمت میں چاندی کے برتن بھی تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ ان کو لوگوں کو عطیات میں فروخت کر دیں، لوگوں نے اس کے خریدنے میں جلدی کی۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو خبر ملی تو وہ کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، نمک نمک کے بدلے، فروخت کرنے سے منع کیا ماسوائے برابر برابر جنس جنس کے بدلے۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا، اس نے سود حاصل کیا۔“ لوگوں نے جو لیا تھا واپس کر دیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی تو انھوں نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم نے آپ ﷺ سے نہیں سنیں؟ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے قصہ دوبارہ دہرایا، پھر فرمایا کہ ہم وہ بیان کرتے ہیں جو نبی ﷺ سے سنا ہے، اگرچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو ناپسند ہی کیوں نہ ہو، یا فرمایا: اگرچہ معاویہ رضی اللہ عنہ رنجیدہ ہی کیوں نہ ہوں۔ مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں اس کے لشکر کے ساتھ اندھیری رات میں چلوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10480
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ 1587»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أنا وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ ⦗٤٥٦⦘ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ فَأَصَبْنَا ذَهَبًا وَفِضَّةً فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا أَنْ يَبِيعَهَا فِي النَّاسِ فِي أُعْطِيَاتِهِمْ فَتَسَارَعَ النَّاسُ فِيهَا فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنَهَاهُمْ فَرَدُّوهَا، فَأَتَى الرَّجُلُ مُعَاوِيَةَ فَشَكَا إِلَيْهِ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ خَطِيبًا، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَيْهِ لَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَقَالَ: وَاللهِ لَنُحَدِّثَنَّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ، وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو قلابہ، سیدنا ابو الاشعث رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، ہمارے امیر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تھے، ہمیں مالِ غنیمت میں سونا چاندی ملا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے عطیات میں ایک آدمی کو فروخت کرنے کا حکم دے دیا تو لوگوں نے اس کے خریدنے میں جلدی کی۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کر دیا، لوگوں نے سامان واپس کر دیا، ایک آدمی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو شکایت کر دی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمانے لگے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ ہم نے وہ احادیث آپ ﷺ سے نہیں سنیں۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: ہم رسول اللہ ﷺ سے احادیث بیان کریں گے اگرچہ معاویہ کو ناپسند ہی کیوں نہ لگیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، نمک نمک کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، فروخت کرنے سے منع کیا ماسوائے برابر اور برابر جنس جنس کے بدلے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10481
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى، فَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ، وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے برابر برابر اور چاندی چاندی کے عوض برابر وزن کے ساتھ اور نمک نمک کے بدلے برابر وزن کے ساتھ اور جو جو کے بدلے برابر، اور گندم گندم کے بدلے اور کھجور کھجور کے بدلے برابر، جس نے زیادہ دیا یا زیادتی کا مطالبہ کیا، اس نے سود لیا۔ تم سونے کو چاندی کے عوض دست بدست نقد فروخت کرو جیسے تم چاہو اور کھجور کو نمک کے عوض نقد فروخت کرو اور جو کو گندم کے عوض دست بدست نقد فروخت کرو جیسے تم چاہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10482
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أنا وَكِيعٌ ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
وکیع رحمہ اللہ حضرت سفیان رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے، برابر برابر اور نقد خرید و فروخت کرو۔ یہ چیزیں باہم مختلف ہوں تو دست بدست جس طرح چاہو خرید و فروخت کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10483
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الذَّهَبُ الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ، وَالْفِضَّةُ الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ " حَتَّى خَصَّ أَنْ قَالَ: " الْمِلْحُ بِالْمِلْحِ " فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: إِنَّ هَذَا لَا يَقُولُ شَيْئًا، فَقَالَ عُبَادَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”سونے کی ایک مٹھی سونے کی ایک مٹھی کے عوض اور چاندی کی ایک مٹھی چاندی کی مٹھی کے عوض“ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نمک نمک کے عوض۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10484
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه النسائي 4566»