السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الأجناس التي ورد النص بجريان الربا فيها باب: ان اجناس کا بیان جن میں سود جاری ہونے کے متعلق نص (دلیل) وارد ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَامَ: فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ بُيُوعًا مَا أَدْرِي مَا هِيَ؟ وَإِنَّ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَا يَصْلُحُ نَسَاءً، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدًّا بِمُدٍّ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدًّا بِمُدٍّ يَدًا بِيَدٍ، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَلَا يَصْلُحُ نَسِيئَةً، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، حَتَّى عَدَّ الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى ⦗٤٥٥⦘ قَالَ قَتَادَةُ: وَكَانَ عُبَادَةُ بَدْرِيًّا عَقَبِيًّا أَحَدَ نُقَبَاءِ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ لَا يَخَافَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، كَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَرَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ مَوْصُولًا مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر فرمانے لگے: ”اے لوگو! تم نے ایسی بیوع ایجاد کر لی ہیں کہ میں ان کے متعلق نہیں جانتا، سونا سونے کے عوض، اس کی ڈلی اور جنس وزن میں برابر، دست بدست نقد خرید و فروخت، اور چاندی چاندی کے عوض وزن میں برابر، نقد دست بدست خرید و فروخت کرو، اور ادھار درست نہیں ہے، گندم گندم کے عوض مَد مَد کے بدلے دست بدست نقد خرید و فروخت، اور جَو جَو کے عوض ایک مَد مَد کے عوض نقد دست بدست خرید و فروخت کرو، اور جَو کو گندم کے عوض فروخت کرنے میں جبکہ جَو زیادہ ہو، نقد دست بدست کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ادھار درست نہیں ہے اور کھجور کھجور کے عوض، یہاں تک کہ نمک نمک کے بدلے تک شمار کیا، برابر برابر، نقد دست بدست۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا معاملہ کیا۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ بدری اور عقبی تھے اور انصار کے سرداروں میں سے تھے، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اس بات پر بیعت کی تھی کہ وہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف نہ کھائیں گے۔