السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الأجناس التي ورد النص بجريان الربا فيها باب: ان اجناس کا بیان جن میں سود جاری ہونے کے متعلق نص (دلیل) وارد ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 10479
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ عْنِ ابْنِ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَالْحَدِيثُ الثَّابِتُ صَحِيحٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ مَرْفُوعًا.حافظ ثناء اللہ
ابوالاشعث صنعانی رحمہ اللہ، وہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کے خطبے کے وقت موجود تھے کہ میں نے ان سے سنا، وہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”سونا سونے کے عوض اس کی ڈلی اور اصل برابر وزن کے ساتھ اور چاندی چاندی کے عوض اس کی ڈلیاں اور جنس برابر وزن کے ساتھ، اور گندم گندم کے، جَو جَو کے، کھجور کھجور کے اور نمک نمک کے بدلے برابر وزن کے ساتھ، جس نے زائد دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا اس نے سود حاصل کیا اور جَو کو گندم کے بدلے دست بدست نقد خریدو فروخت کرنا اور جو زیادہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔“