حدیث نمبر: 10468
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَأنا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ " قَالَ: هُمْ سَوَاءٌ، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے، سود دینے والے، اس کے لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا: ”وہ سب برابر ہیں۔“
حدیث نمبر: 10469
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ، وَشَاهِدَيْهِ " أَوْ قَالَ: " شَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”سود لینے والے، سود دینے والے اور اس کے دونوں گواہوں یا ایک گواہ اور اس کے لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے“۔
حدیث نمبر: 10470
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟ " الْحَدِيثَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُسْتَوِيَةٍ أَوْ فَضَاءٍ " الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: " فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى نَهْرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رِجَالٌ قِيَامٌ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى شَطِّ النَّهْرِ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَيُقْبِلُ الَّذِي فِي النَّهْرِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ رَمَاهُ الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ؛ لِيَخْرُجَ رَمَاهُ فِي فِيهِ بِحَجَرٍ، فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَقُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهْرِ آكِلُ الرِّبَا "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے فراغت کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے رات کو خواب دیکھا ہے؟“
(ب) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے رات کو دیکھا، میرے پاس دو آدمی آئے۔ انہوں نے مجھے پکڑ کر ہموار زمین یا فضا کی طرف نکالا۔“
(ج) آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم خون والی نہر تک آئے، وہاں آدمی تھے اور نہر کے کنارے ایک آدمی ہاتھ میں پتھر لیے کھڑا تھا۔ جب نہر والا آدمی کی طرف متوجہ ہوتا اور نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا اور وہ شخص جو نہر کے باہر کھڑا ہے، اس کے منہ پر پتھر مارتا وہ دوبارہ اس کو نہر میں دھکیل دیتا۔ وہ جب بھی نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کے منہ پر پتھر مارتا اور واپس کر دیتا۔ میں نے ان دونوں سے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ جس شخص کو آپ نے نہر میں دیکھا ہے وہ سود کھانے والا تھا۔“
(ب) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے رات کو دیکھا، میرے پاس دو آدمی آئے۔ انہوں نے مجھے پکڑ کر ہموار زمین یا فضا کی طرف نکالا۔“
(ج) آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم خون والی نہر تک آئے، وہاں آدمی تھے اور نہر کے کنارے ایک آدمی ہاتھ میں پتھر لیے کھڑا تھا۔ جب نہر والا آدمی کی طرف متوجہ ہوتا اور نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا اور وہ شخص جو نہر کے باہر کھڑا ہے، اس کے منہ پر پتھر مارتا وہ دوبارہ اس کو نہر میں دھکیل دیتا۔ وہ جب بھی نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کے منہ پر پتھر مارتا اور واپس کر دیتا۔ میں نے ان دونوں سے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ جس شخص کو آپ نے نہر میں دیکھا ہے وہ سود کھانے والا تھا۔“
حدیث نمبر: 10471
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ أَنْزَلَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ الرِّبَا وَقَالَ الْوَاسِطِيُّ: أُنْزِلَتْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سب سے آخر میں جو اللہ نے اپنے نبی ﷺ پر آیت نازل کی وہ سود کی آیت تھی اور واسطی کہتے ہیں کہ نازل کی گئی۔
حدیث نمبر: 10472
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي خَيْرَةَ، يُحَدِّثُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ فِيهِ الرِّبَا، فَيَأْكُلُ نَاسٌ أَوِ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُمْ نَالَهُ مِنْ غُبَارِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ وہ سود کھائیں گے“ یا فرمایا: ”تمام لوگ سود کھائیں گے، جو نہ کھائے گا وہ اس کے غبار کو ضرور پالے گا۔“
حدیث نمبر: 10473
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا، فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ تمام لوگ سود کھائیں گے، اگر کوئی نہ کھائے گا تو اس کا دھواں اس کو ضرور پہنچ جائے گا۔“