السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الأجناس التي ورد النص بجريان الربا فيها باب: ان اجناس کا بیان جن میں سود جاری ہونے کے متعلق نص (دلیل) وارد ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 10476
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ، وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ، وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ " - وَنَقَصَ أَحَدُهُمَا -: " الْمِلْحَ أَوِ التَّمْرَ " - وَزَادَ أَحَدُهُمَا -: " مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى " الرَّجُلُ الْآخَرُ يُقَالُ هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدٍ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض اور نمک نمک کے بدلے فروخت نہ کرو لیکن برابر برابر، ایک جنس جنس کے بدلے، دست بدست نقد خرید و فروخت کرو۔ لیکن سونا چاندی کے عوض اور چاندی سونے کے بدلے، گندم جَو کے عوض اور جو گندم کے عوض اور کھجور نمک کے بدلے اور نمک کھجور کے عوض نقد بنقد جیسے تم چاہو خرید و فروخت کرو۔“