حدیث نمبر: 10474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ، وَأَبُو مُصْعَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ، قَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْمَعُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا " لَفْظُ حَدِيثِهِمْ سَوَاءٌ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي، أَوْ حَتَّى تَأْتِيَ جَارِيَتِي مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَرَأْتُهُ عَلَى مَالِكٍ صَحِيحًا لَا أَشُكُّ فِيهِ، ثُمَّ طَالَ عَلَيَّ الزَّمَانُ، وَلَمْ أَحْفَظْ حِفْظًا فَشَكَكْتُ فِي جَارِيَتِي أَوْ خَازِنِي وَغَيْرِي يَقُولُ عَنْهُ خَازِنِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَالْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں کہ میں نے سو دینار کے عوض سونا خریدا تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اور ہم نے آپس میں قیمت طے کی یہاں تک کہ انہوں نے مجھ سے خرید لیا اور سونے کو لے کر وہ اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ رہے تھے۔ پھر کہنے لگے: یہ رکھ لو جب تک میرا خزانچی غابہ نامی جگہ سے آ جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ سن رہے تھے، فرمانے لگے: اس سے جدا نہ ہونا، یہاں تک کہ اس سے قیمت وصول کر لو۔ پھر کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے، چاندی چاندی کے، گندم گندم کے، کھجور کھجور کے اور جو جو کے عوض سود ہے ماسوائے نقد لین دین کے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ جب تک میرا خزانچی یا میری لونڈی غابہ نامی جگہ سے واپس آ جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے اس کی صحیح تلاوت کی۔ مجھے شک نہ تھا پھر ایک وقت گزر گیا، مجھے صحیح یاد نہ رہا تو مجھے شک پیدا ہو گیا کہ میرا خزانچی یا میری لونڈی، لیکن میرے علاوہ دوسرے خزانچی کے لفظ ہی بیان کرتے ہیں۔
(ب) عبداللہ بن یوسف، امام مالک رحمہ اللہ سے خزانچی کے لفظ ہی ذکر کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10474
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2065»