کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: 0پرندوں کے شکار کی جزا (فدیہ) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: کبوتر اور اس کے حکم میں آنے والے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَثِيرٍ الدَّارِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ قَالَ: " قَدِمَ ⦗٣٣٦⦘ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَكَّةَ فَدَخَلَ دَارَ النَّدْوَةِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَأَرَادَ أَنْ يَسْتَقْرِبَ مِنْهَا الرَّوَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَلْقَى رِدَاءَهُ عَلَى وَاقِفٍ فِي الْبَيْتِ فَوَقَعَ عَلَيْهِ طَيْرٌ مِنْ هَذَا الْحَمَامِ فَأَطَارَهُ فَوَقَعَ عَلَيْهِ فَانْتَهَزَتْهُ حَيَّةٌ فَقَتَلَتْهُ فَلَمَّا صَلَّى الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: احْكُمَا عَلَيَّ فِي شَيْءٍ صَنَعْتُهُ الْيَوْمَ إِنِّي دَخَلْتُ هَذِهِ الدَّارَ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَقْرِبَ مِنْهَا الرَّوَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَلْقَيْتُ رِدَائِي عَلَى هَذَا الْوَاقِفِ فَوَقَعَ عَلَيْهِ طَيْرٌ مِنْ هَذَا الْحَمَامِ فَخَشِيتُ أَنْ يُلَطِّخَهُ بِسَلْحِهِ فَأَطَرْتُهُ عَنْهُ فَوَقَعَ عَلَى هَذَا الْوَاقِفِ الْآخَرِ فَانْتَهَزَتْهُ حَيَّةٌ فَقَتَلَتْهُ فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي أَنِّي أَطَرْتُهُ مِنْ مَنْزِلَةٍ كَانَ فِيهَا آمِنًا إِلَى مَوْقِعَةٍ كَانَ فِيهَا حَتْفُهُ، فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَيْفَ تَرَى فِي عَنْزٍ ثَنِيَّةٍ عَفْرَاءَ نَحْكُمُ بِهَا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟، قَالَ: أَرَى ذَلِكَ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع بن عبدالحارث بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مکہ آئے اور دار الندوہ میں داخل ہوئے، ان کا ارادہ تھا کہ وہاں سے مسجد کی طرف جانا قریب ہو، انہوں نے اپنی چادر گھر کی ایک کھونٹی پر ڈالی، اس پر ایک کبوتر آکر بیٹھ گیا، انہوں نے اسے اڑایا، پھر وہ (دوسری جگہ) بیٹھ گیا، اس کو سانپ نے جھپٹ لیا اور اس کو مار ڈالا، جب انہوں نے جمعہ کی نماز پڑھی تو میں اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے بارے میں فیصلہ کرو، جو آج میں نے کیا ہے۔ میں اس گھر میں داخل ہوا اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ یہاں سے مسجد کی طرف جانا قریب ہو، میں نے اپنی چادر اس کھونٹی پر ڈال دی۔ اس پر کبوتر بیٹھ گیا۔ میں ڈر گیا کہ وہ اس کو اپنی بیٹ سے آلودہ کر دے گا، میں نے اسے اڑا دیا۔ وہ اس دوسری کھونٹی پر بیٹھ گیا تو سانپ نے جھپٹ کر اس کو مار ڈالا، میں نے اپنے دل میں محسوس کیا کہ میں نے اس کو امن والی جگہ سے اڑایا اور وہ ایسی جگہ چلا گیا جہاں اس کی موت تھی۔“ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم امیر المؤمنین پر دو دانت والی خاکستری رنگ کی ایک بکری کا فیصلہ کر دیں؟“ انہوں نے کہا: میری بھی یہی رائے ہے، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10002
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، فِي كِتَابِ مُخْتَصَرِ الْحَجِّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّهُ قَضَى فِي حَمَامَةٍ مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ بِشَاةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مکہ کے کبوتروں میں سے ایک کبوتری کے عوض ایک بکری کا فیصلہ سنایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10003
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّهُ جَعَلَ فِي حَمَامِ الْحَرَمِ عَلَى الْمُحْرِمِ وَالْحَلَالِ فِي كُلِّ حَمَامَةٍ شَاةً ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے حرم کے کبوتروں کے بارے میں محرم اور غیر محرم دونوں پر ہر کبوتر کے بدلے ایک بکری مقرر فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10004
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الشافعي645»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَتَلَ ابْنٌ لَهُ حَمَامَةً فَجَاءَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " يَذْبَحُ شَاةً فَيَتَصَدَّقُ بِهَا ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَمِنْ حَمَامِ مَكَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ. وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " فِي الْحَمَامَةِ شَاةٌ لَا يُؤْكَلُ مِنْهَا يُتَصَدَّقُ بِهَا " وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " فِي الْخُضَرِيِّ وَالدِّبْسِيِّ وَالْقُمْرِيِّ وَالْقَطَاةِ وَالْحَجَلِ شَاةٌ شَاةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عثمان بن عبیداللہ بن حمید کے بیٹے نے ایک کبوتری قتل کردی۔ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، ان سے بات کی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ایک بکری ذبح کرو جو صدقہ کی جائے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا مکہ کے کبوتروں میں سے تھی؟ فرمانے لگے: ہاں۔
(ب) عطاء رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ کبوتری کے عوض ایک بکری ہے، اس میں سے کھایا نہ جائے، اسے صدقہ کر دیا جائے۔
(ج) عطاء رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”خضری“ (ایسا پرندہ جس کا رنگ سبزی مائل ہوتا ہے، اس کو اخیل بھی کہتے ہیں)، دبسی (کبوتروں کی ایک قسم جس کا رنگ خاکی ہوتا ہے)، قمری (فاختہ کی شکل کا ایک خوش آواز پرندہ)، قطاۃ (بھٹ تیتر) اور چکور کے عوض ایک ایک بکری ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10005
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 8273»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ رَجُلٍ أَظُنُّهُ أَبَا بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فِي رَجُلٍ أَغْلَقَ بَابَهُ عَلَى حَمَامَةٍ وَفَرْخَيْهَا يَعْنِي فَرَجَعَ وَقَدْ مُوِّتَتْ فَأَغْرَمَهُ ابْنُ عُمَرَ ثَلَاثَ شِيَاهٍ مِنَ الْغَنَمِ.
حافظ ثناء اللہ
یوسف بن ماہک، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کبوتری اور اس کے دو بچوں پر دروازہ بند کر دیا، پھر وہ واپس آیا تو وہ مر چکی تھیں، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر تین بکریاں چٹی ڈالیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10006
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْفَقِيهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ⦗٣٣٧⦘ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَيُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رَجُلًا أَغْلَقَ بَابَهُ عَلَى حَمَامَةٍ وَفَرْخَيْهَا ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ وَمِنًى فَرَجَعَ وَقَدْ مُوِّتَتْ فَأَتَى ابْنَ عُمَرَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَجَعَلَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا مِنَ الْغَنَمِ وَحَكَمَ مَعَهُ رَجُلٌ.
حافظ ثناء اللہ
یوسف بن ماہک اور منصور رحمہما اللہ، عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کبوتری اور اس کے دو بچوں پر کمرے کا دروازہ بند کر دیا، پھر خود عرفات و منیٰ کے میدان میں چلا گیا۔ جب وہ واپس آیا تو وہ مر چکی تھیں، اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر اس کا تذکرہ کیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور دوسرے شخص نے اس پر تین بکریاں فدیہ میں ڈال دیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10007
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " فِي حَمَامِ مَكَّةَ إِذَا قُتِلَ شَاةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مکہ کے کبوتروں میں سے کسی کو قتل کر دیا جائے تو اس کے عوض ایک بکری ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10008
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابن الجعد 2257»
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي عِظَامِ الطَّيْرِ شَاةٌ، الْكُرْكِيِّ وَالْحُبَارَى وَالْوَزِّ وَنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالکریم رحمہ اللہ، حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بڑے پرندوں: کرکی (سارس آبی پرندہ)، حباری (سرخاب)، وز (مرغابی) اور اس جیسے پرندوں کے عوض ایک بکری ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10009
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»