❮
❯
حدیث نمبر: 10002
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَثِيرٍ الدَّارِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ قَالَ: " قَدِمَ ⦗٣٣٦⦘ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَكَّةَ فَدَخَلَ دَارَ النَّدْوَةِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَأَرَادَ أَنْ يَسْتَقْرِبَ مِنْهَا الرَّوَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَلْقَى رِدَاءَهُ عَلَى وَاقِفٍ فِي الْبَيْتِ فَوَقَعَ عَلَيْهِ طَيْرٌ مِنْ هَذَا الْحَمَامِ فَأَطَارَهُ فَوَقَعَ عَلَيْهِ فَانْتَهَزَتْهُ حَيَّةٌ فَقَتَلَتْهُ فَلَمَّا صَلَّى الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: احْكُمَا عَلَيَّ فِي شَيْءٍ صَنَعْتُهُ الْيَوْمَ إِنِّي دَخَلْتُ هَذِهِ الدَّارَ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَقْرِبَ مِنْهَا الرَّوَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَلْقَيْتُ رِدَائِي عَلَى هَذَا الْوَاقِفِ فَوَقَعَ عَلَيْهِ طَيْرٌ مِنْ هَذَا الْحَمَامِ فَخَشِيتُ أَنْ يُلَطِّخَهُ بِسَلْحِهِ فَأَطَرْتُهُ عَنْهُ فَوَقَعَ عَلَى هَذَا الْوَاقِفِ الْآخَرِ فَانْتَهَزَتْهُ حَيَّةٌ فَقَتَلَتْهُ فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي أَنِّي أَطَرْتُهُ مِنْ مَنْزِلَةٍ كَانَ فِيهَا آمِنًا إِلَى مَوْقِعَةٍ كَانَ فِيهَا حَتْفُهُ، فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَيْفَ تَرَى فِي عَنْزٍ ثَنِيَّةٍ عَفْرَاءَ نَحْكُمُ بِهَا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟، قَالَ: أَرَى ذَلِكَ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ

نافع بن عبدالحارث بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مکہ آئے اور دار الندوہ میں داخل ہوئے، ان کا ارادہ تھا کہ وہاں سے مسجد کی طرف جانا قریب ہو، انہوں نے اپنی چادر گھر کی ایک کھونٹی پر ڈالی، اس پر ایک کبوتر آکر بیٹھ گیا، انہوں نے اسے اڑایا، پھر وہ (دوسری جگہ) بیٹھ گیا، اس کو سانپ نے جھپٹ لیا اور اس کو مار ڈالا، جب انہوں نے جمعہ کی نماز پڑھی تو میں اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے بارے میں فیصلہ کرو، جو آج میں نے کیا ہے۔ میں اس گھر میں داخل ہوا اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ یہاں سے مسجد کی طرف جانا قریب ہو، میں نے اپنی چادر اس کھونٹی پر ڈال دی۔ اس پر کبوتر بیٹھ گیا۔ میں ڈر گیا کہ وہ اس کو اپنی بیٹ سے آلودہ کر دے گا، میں نے اسے اڑا دیا۔ وہ اس دوسری کھونٹی پر بیٹھ گیا تو سانپ نے جھپٹ کر اس کو مار ڈالا، میں نے اپنے دل میں محسوس کیا کہ میں نے اس کو امن والی جگہ سے اڑایا اور وہ ایسی جگہ چلا گیا جہاں اس کی موت تھی۔“ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم امیر المؤمنین پر دو دانت والی خاکستری رنگ کی ایک بکری کا فیصلہ کر دیں؟“ انہوں نے کہا: میری بھی یہی رائے ہے، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا حکم دے دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10002
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»