کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کبوتر سے چھوٹے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10010
رُوِّينَا عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ طَيْرٍ دُونَ الْحَمَامِ فَفِيهِ قِيمَتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ہمیں حارث بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کبوتر کے علاوہ ہر پرندے (کے شکار کی صورت) میں اس کی قیمت (بطور فدیہ ادا کرنا) لازم ہے۔“
حدیث نمبر: 10010
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أُبَيٍّ الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ،؛ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مَا كَانَ سُوَى حَمَامِ الْحَرَمِ فَفِيهِ ثَمَنُهُ إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی عمار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور کعب احبار رحمہ اللہ محرم آدمیوں کے ایک گروہ میں آئے جو بیت المقدس سے عمرہ کی غرض سے آئے تھے، ہم راستہ میں تھے اور کعب آگ تاپ رہے تھے۔ ان کا پاؤں ٹڈی کو لگا، انہوں نے دو ٹڈیاں پکڑ لیں اور ان کو قتل کر دیا اور اپنے محرم ہونے کو بھول گئے۔ پھر ان کو اپنا محرم ہونا یاد آیا تو ان کو ڈال دیا۔ جب ہم مدینہ میں آکر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ کعب نے ٹڈیوں والا قصہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ قصہ کس کے ساتھ پیش آیا شاید کعب آپ ہی ہوں؟ کہنے لگے: ہاں۔ فرمانے لگے کہ حمیر کے رہنے والے ٹڈی کو پسند کرتے ہیں، تو نے اپنے نفس میں کیا پایا؟ کہنے لگے: دو درہم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خوشی سے کلمہ بخ کہنے لگے اور فرمایا: دو درہم تو سو ٹڈیوں سے بھی بہتر ہیں وہ کرو جو تمہارا دل کہتا ہے۔
حدیث نمبر: 10011
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَكَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي أُنَاسٍ مُحْرِمِينَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَكَعْبٌ عَلَى نَارٍ يَصْطَلِي مَرَّتْ بِهِ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَخَذَ جَرَادَتَيْنِ فَقَتَلَهُمَا وَنَسِيَ إِحْرَامَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ إِحْرَامَهُ فَأَلْقَاهُمَا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلَ الْقَوْمُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَهُمْ فَقَصَّ كَعْبٌ قِصَّةَ الْجَرَادَتَيْنِ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ بِذَلِكَ لَعَلَّكَ يَا كَعْبُ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " إنَّ حِمْيَرَ تُحِبُّ الْجَرَادَ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ؟ " قَالَ: دِرْهَمَيْنِ، قَالَ: " بَخٍ دِرْهَمَانِ خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ جَرَادَةٍ، اجْعَلْ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک محرم آدمی نے جس نے ٹڈی کو قتل کر دیا تھا سوال کیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک مٹھی کھانے سے، البتہ تم ضرور ایک مٹھی ٹڈی سے پکڑنا لیکن وہ پھر گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ» کا معنی قیمت ہے، اور وہ فرماتے ہیں: احتیاط اسی میں ہے کہ جو آپ کے ذمہ ہے اس سے زیادہ نکال دیا جائے باوجود اس کے کہ میں جانتا ہوں جو میں نے آپ کو بتایا ہے وہ زیادہ ہے اس سے جو آپ کے ذمہ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ» کا معنی قیمت ہے، اور وہ فرماتے ہیں: احتیاط اسی میں ہے کہ جو آپ کے ذمہ ہے اس سے زیادہ نکال دیا جائے باوجود اس کے کہ میں جانتا ہوں جو میں نے آپ کو بتایا ہے وہ زیادہ ہے اس سے جو آپ کے ذمہ ہے۔
حدیث نمبر: 10012
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ⦗٣٣٨⦘ يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ جَرَادَةٍ، يَقْتُلُهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فِيهَا قَبْضَةٌ مِنْ طَعَامٍ وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ وَلَكِنْ وَلَوْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَوْلُهُ: " وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ " أَيْ إِنَّمَا فِيهَا الْقِيمَةُ، وَقَوْلُهُ: " وَلَوْ "، يَقُولُ: تَحْتَاطُ فَتُخْرِجُ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْكَ بَعْدَ أَنْ أَعْلَمْتُكَ أَنَّهُ أَكْثَرُ مِمَّا عَلَيْكَ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حرم کے اندر ٹڈی کے شکار کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: نہیں اور اس سے منع فرمایا، کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا یا قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ آپ کی قوم تو لیتے ہیں اور وہ مسجد میں گوٹھ مار کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: وہ نہیں جانتے۔
حدیث نمبر: 10013
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ صَيْدِ الْجَرَادِ، فِي الْحَرَمِ، فَقَالَ: " لَا " وَنَهَى عَنْهُ، قَالَ: أَمَا قُلْتَ لَهُ أَوْ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَإِنَّ قَوْمَكَ يَأْخُذُونَهُ وَهُمْ مُحْتَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: لَا يَعْلَمُونَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ، ان الفاظ میں سے زیادہ صحیح الفاظ حفاظ نے ابن جریج سے روایت کیے ہیں اور ان دونوں میں سے زیادہ صحیح «مُنْحَنُونَ» ہی ہے۔
حدیث نمبر: 10014
قَالَ: وَأنبأ الشَّافِعِيُّ، وَأنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مُنْحَنُونَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ وَمُسْلِمٌ: أَصْوَبُهُمَا رَوَى الْحُفَّاظُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مُنْحَنُونَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹڈی سمندری شکار ہے۔“