کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کبوتر سے چھوٹے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
رُوِّينَا عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ طَيْرٍ دُونَ الْحَمَامِ فَفِيهِ قِيمَتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ہمیں حارث بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کبوتر کے علاوہ ہر پرندے (کے شکار کی صورت) میں اس کی قیمت (بطور فدیہ ادا کرنا) لازم ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أُبَيٍّ الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ،؛ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مَا كَانَ سُوَى حَمَامِ الْحَرَمِ فَفِيهِ ثَمَنُهُ إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حرم کے کبوتروں کے علاوہ جو بھی (پرندہ) ہو، اگر محرم اس کا شکار کر لے تو اس کی قیمت دینا ہو گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَكَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي أُنَاسٍ مُحْرِمِينَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَكَعْبٌ عَلَى نَارٍ يَصْطَلِي مَرَّتْ بِهِ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَخَذَ جَرَادَتَيْنِ فَقَتَلَهُمَا وَنَسِيَ إِحْرَامَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ إِحْرَامَهُ فَأَلْقَاهُمَا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلَ الْقَوْمُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَهُمْ فَقَصَّ كَعْبٌ قِصَّةَ الْجَرَادَتَيْنِ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ بِذَلِكَ لَعَلَّكَ يَا كَعْبُ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " إنَّ حِمْيَرَ تُحِبُّ الْجَرَادَ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ؟ " قَالَ: دِرْهَمَيْنِ، قَالَ: " بَخٍ دِرْهَمَانِ خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ جَرَادَةٍ، اجْعَلْ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی عمار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور کعب احبار رحمہ اللہ کے ساتھ محرم آدمیوں کے ایک گروہ میں بیت المقدس سے عمرہ کی غرض سے آئے، ہم راستہ میں تھے اور کعب آگ تاپ رہے تھے کہ ٹڈیوں کا ایک غول ان کے پاس سے گزرا، انہوں نے دو ٹڈیاں پکڑ لیں اور ان کو قتل کر دیا اور اپنے محرم ہونے کو بھول گئے۔ پھر ان کو اپنا محرم ہونا یاد آیا تو ان کو ڈال دیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ کعب نے دو ٹڈیوں والا قصہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ قصہ کس کے ساتھ پیش آیا؟ شاید اے کعب! آپ کے ساتھ؟ کہنے لگے: ہاں۔ فرمانے لگے: حمیر کے رہنے والے ٹڈی کو پسند کرتے ہیں، تم نے اپنے دل میں (اس کا فدیہ) کیا مقرر کیا ہے؟ کہنے لگے: دو درہم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واہ! دو درہم تو سو ٹڈیوں سے بھی بہتر ہیں، جو تم نے اپنے دل میں مقرر کیا ہے وہی ادا کر دو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ⦗٣٣٨⦘ يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ جَرَادَةٍ، يَقْتُلُهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فِيهَا قَبْضَةٌ مِنْ طَعَامٍ وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ وَلَكِنْ وَلَوْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَوْلُهُ: " وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ " أَيْ إِنَّمَا فِيهَا الْقِيمَةُ، وَقَوْلُهُ: " وَلَوْ "، يَقُولُ: تَحْتَاطُ فَتُخْرِجُ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْكَ بَعْدَ أَنْ أَعْلَمْتُكَ أَنَّهُ أَكْثَرُ مِمَّا عَلَيْكَ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے ان سے اس ٹڈی کے بارے میں سوال کیا جسے وہ احرام کی حالت میں قتل کر دے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس میں ایک مٹھی کھانا ہے، حالانکہ (اس کے بدلے) تم ضرور مٹھی بھر ٹڈیاں لے لو گے، لیکن پھر بھی (یہی دو)۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ» کا معنی یہ ہے کہ اس میں صرف قیمت ہے، اور «وَلَوْ» سے مراد یہ ہے: تم احتیاط کرو اور جو تمہارے ذمہ ہے اس سے زیادہ نکال دو، اس کے بعد کہ میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ اس سے زیادہ ہے جو تمہارے ذمہ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ» کا معنی یہ ہے کہ اس میں صرف قیمت ہے، اور «وَلَوْ» سے مراد یہ ہے: تم احتیاط کرو اور جو تمہارے ذمہ ہے اس سے زیادہ نکال دو، اس کے بعد کہ میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ اس سے زیادہ ہے جو تمہارے ذمہ ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ صَيْدِ الْجَرَادِ، فِي الْحَرَمِ، فَقَالَ: " لَا " وَنَهَى عَنْهُ، قَالَ: أَمَا قُلْتَ لَهُ أَوْ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَإِنَّ قَوْمَكَ يَأْخُذُونَهُ وَهُمْ مُحْتَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: لَا يَعْلَمُونَ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حرم کے اندر ٹڈی کے شکار کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: نہیں، اور اس سے منع فرمایا۔ (عطاء) کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا، یا قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: آپ کی قوم کے لوگ تو مسجد میں گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے انہیں پکڑ لیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: وہ نہیں جانتے۔
قَالَ: وَأنبأ الشَّافِعِيُّ، وَأنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مُنْحَنُونَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ وَمُسْلِمٌ: أَصْوَبُهُمَا رَوَى الْحُفَّاظُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مُنْحَنُونَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے مسلم سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کی مثل روایت کیا ہے، البتہ اس میں «مُنْحَنُونَ» (جھکے ہوئے) کا لفظ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور مسلم کہتے ہیں: ان دونوں میں سے زیادہ درست «مُنْحَنُونَ» ہی ہے جو حفاظ نے ابن جریج سے روایت کیا ہے۔